Wednesday, May 9, 2018

آدھی صدی پہلےایک خطرناک ایڈونچر


آدھی صدی پہلے ایک خطرناک ایڈونچر
            کہہ سکتے ہیں کہ زمانہ قدیم کی بات ہے۔شائد آدھی صدی اس بات کو گزر گئی ہو گی جب ایوب خان کی حکومت ختم  ہونے والی تھی ملک میں ہڑتالوں احتجاج وغیرہ کی لہر تھی۔سٹار ٹیکسٹائل ملز بند تھی اور ورکرز نے باہر کا گیٹ بند کیا ہوا تھا۔ہم دو دن سے مزدوری کے لئے جارہے تھے اور واپس ناکام آرہے تھے۔قاسم بلوچ نام کا ایک جابر تھا جس کے بڑے بھائی سبزی منڈی میں سوزوکی چلاتے تھے۔اس دور میں یہ ایک اچھی گاڑی ہوتی تھی۔ان کے ہاں پانچ بیٹیوں کے بعد بیٹے نےجنم لیا۔ بڑی خوشیاں منائی گئیں۔جس مزار پر منت مانی تھی اس پر جاکر منت اتارنی تھی۔بلوچوں کے ہاں مزاروں پر بکرے کاٹنے کا رواج ہے ۔مزار بلوچستان میں کہیں واقع تھا۔کچھ چڑھاوا وغیرہ  چڑھانا تھا۔قاسم بلوچ نے مجھے بھی چلنے کی دعوت دے دی۔میرا مزاج تو ویسے ہی اباجان نے آوارہ بنایا تھا ، میں جانے کو دھم سے تیار ہو گیا۔ صبح سویرے  لیمارکیٹ پر جمع ہوئے،سوزوکی میں سو روپے کا پٹرول ڈالا جس سے ٹنکی فل ہو گئی۔اس وقت تک میں نے حب چوکی کا صرف نام ہی سنا تھا۔بلدیہ ٹاؤن میں کتے لوٹتے تھے یا مواچھ گوٹھ والے اس میں اپنے مرے ہوئے گدھے ڈال دیا کرتے تھے۔ مواچھ گوٹھ گدھوں کی افزائش کا علاقہ تھا۔جیسے زچہ بچہ کی اموات اس زمانے میں انسانوں میں زیادہ تھیں ویسے ہی  گدھیوں میں بھی زیادہ تھیں۔اس علاقے میں مردار خور گِدھوں کی تعداد بھی بہت تھی جو  دن رات زچّہ گدھیوں کی موت کی دعا کرتے ہونگے ۔ایک زچہ کے مرنے پر ان کا دو تین دن کا کھانا ہو جاتا تھا۔ ویسے بھی گِدھ دنیا کا صابر ترین جانور ہے۔ بلدیہ ٹا ؤن میں گدِھوں سے  لینڈ مافیا  زمین چھین رہی تھی جس پر وہ پشت ہا پشت سے آباد تھے۔آخر کار گِدھ انسان سے ہار گئے۔بلدیہ ٹاؤن کا ذکر یہاں اس لئے آگیا کہ آر سی ڈی ہائی وے  بن رہی تھی اور ہمیں بلدیہ ٹا ؤن کے کچے راستے سے جانا پڑا۔اس راستے پر پلاٹوں کی گھیرا گھاری کی بنا ء پر ٹیڑھے میڑھے راستے سے گدھی زچّاؤں کی لاشوں  کے پاس سے نسیم زہریلی اور باد سموم سونگھتے ہوئے جانا پڑا۔
            دریائے حب کاپل اس زمانے میں  بس یونہی پل کے نام پر پلیا تھی جو ہر بارش میں یا تو بہہ جاتی یا بند ہو جاتی تھی۔ اس کے نشانات موجودہ پل کے نیچے جھانک کر دیکھے جا سکتے ہیں۔حب چوکی پر چند ہوٹل دکانیں اور ورکشاپ تھے ۔ حب چوکی والے ضروریات کے لئے لیمارکٹ کا رخ کرتے تھے۔چند پان کی دکانیں تھیں جن پر سونف خوشبو کا پان بہت فروخت ہوتا تھا۔حب چوکی کے سیدھے ہاتھ پر باغات تھے جو اب ناپید ہیں۔اونٹوں کے قافلے  گھاس اور جلانے کی لکڑیاں لے کر  حب چوکی کے راستے کراچی کی جانب  رواں دواں رہتے تھے۔ اور واپسی پر راشن لیتے ہوئے آتے۔حب چوکی پہنچ کر آٹھ آنے کے   ہری لال خوشبو کے چار پان بندھوائے  ایک منہ میں ڈالا ۔ چار پر ایک فری تھا۔چھوٹی سی باڈی کی کھلی سوزوکی تھی جس میں دری ڈال کر بیٹھ گئے تھے۔وندر پہنچتے پہنچتے دوپہر ہو گئی۔وندر بھی ایک چھوٹا سا بس اسٹاپ تھا جس پر کھانا مل گیا۔ قاسم کا بھائی  نزدیک ہی منڈی سے ایک بکرا خرید لایا جس کو سوزوکی میں سوار کرا دیا گیا۔ بلدیہ کے گڑھوں اور کچے راستے پر   چلنے سے گاڑی میں چر چوں چرچوں اور کبھی گڑروں گڑروں  کی آوازآنے لگی،جس پر کوئی توجہ نہیں دی۔قاسم کے بھائی نے آوازوں پر کہا کہ ہم تو اس پر بیس من سبزی لے کر جاتا ہوں  یہ چند آدمیوں سے کچھ نہیں بگڑتا اس کا۔ ویسے سڑک  تو ساری  بس واجبی سی ہی تھی جس پر کسی بھی گاڑی کا ہلواڑہ بننا    ہی تھا۔
 اوتھل  سے ہوتے ہوئے بیلہ آئے وہاں سے کچھ آگے سیدھے ہاتھ پر کچا راستہ  شروع ہوا۔ہر تھوڑی دیر بعد ریت میں  میں گاڑی دھنس جاتی اور ہم سب اتر کر  یا علی کہہ کردکھا لگاتے اور گاڑی نکل جاتی۔گرد پہیوں سے اڑ اڑ کر ہمارے چہروں کا  جو دھوپ او رگرمی سے تمتما رہے تھے مزید  میک اپ کرنے میں مصروف تھی۔ریت مٹی کنکر گریول اور نوکیلے سنگریزوں سے بھر پور راستہ تھا۔ایک جگہ ایسی خاک نما باریک مٹی تھی کہ  نیچےاترنے پر پیر ٹخنوں سے اوپر تک  اس میں گھس گئے اور لگا کہ جلتے تندور میں چلے گئے ہیں۔سب لوگ بھاگ کر دور ہوئے۔ ایک صاحب کی چپل اس میں رہ گئی جو بھاگنے کی بنا پر نہیں ملی۔دوبارہ کسی کی ہمت نہیں ہو رہی کہ  اس گرم ریت میں جاکر گاڑی کو دھکا لگائے۔ڈرائیور شور مچائے کہ چلو دھکا لگاؤ کوئی تیار نہیں۔وہ اکیلا ہی کبھی آگَ بھی پیچھے کے گیئر ڈال کر کوشش کرتا رہا۔ناکام رہا۔ اس نے جلدی سے نیچے اتر کر پیچھے  سے دری نکال کر اسے سائیڈ میں بچھایا اور کہا کہ اب اس پر کھڑے ہو کر دھکا لگاؤ۔دری کو آگے کرتے گئے اور گاڑی کو دھکا لگاتے گئے۔راستے میں دو ندیاں آئیں ۔جن میں کپڑوں سمیت نہا کر ٹھنڈے ہوئے اور آگے چلے۔ ایک اور  خشک ندی میں گریول  سے گزرتے میں گاڑی کا ایکسل ٹوٹ گیا۔دھکا لگا کر گاڑی ندی کے پار ایک پہاڑی کے دامن میں کھڑی کی۔
اب کوئی امید اس گاڑی کے چلنے کی تو تھی ہی نہیں۔دری نکال کر بچھائی اورغور کرنے بیٹھے کہ کیا کیا جائے۔یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ مزار شریف کتنی دور ہے۔شام ہو چکی تھی اور رات سر پر تھی۔ایک صاحب کو ایک بچھو نظر آگیا۔اب تو سب کی سٹی گم کہ اس علاقے میں تو بچھو ہیں۔سب دری چھوڑ کر گاڑی میں آ بیٹھے۔کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ  اب کیا کریں۔دور دور تک آدم  نہ آدم زاد۔ میرا بھی یہ لڑکپن کا زمانہ تھا۔ اسکاؤٹنگ کا سامان میں بہاولپور ہی چھوڑ آیا تھا۔کسی کے پاس کوئی ٹارچ نہیں تھی۔ایک کی چپل ریت میں  گم ہو گئی تو   ایک آدمی کی چپل دھکے لگانے میں ٹوٹ گئی۔فلمی ہیروز کی نقل کرنا اس زمانے میں میرا خیال ہے کہ آج سے زیادہ تھا۔ہمارے ہیرو وحید مراد اور ندیم دونوں نے  پتلون کے ساتھ ہوائی چپل پہن کر اداکاری کیا کی کہ سارا  نوجوان طبقہ پتلے پائنچوں کی ٹیڈی پتلون کے ساتھ ہوائی چپل پہننے لگا۔سویلو کی ہوائی چپل آٹھ روپے جوڑی تھی ۔سو ہم سب بھی ہوائی چپل میں تھے ۔  بھلا جنگل اور پہاڑیوں میں  چپل پہنی جاتی ہے اور وہ  بھی ہوائی چپل۔
اب پارٹی میں تفرقہ شروع ہوگیا کہ ہاری ہوئی ٹیم کے کھلاڑی ہمیشہ آپس میں لڑتے ہیں۔ کچھ ڈرائیور کو کچھ کچھ کہہ رہے ہیں کچھ ایک دوسرے کو کچھ کچھ کہہ رہے ہیں۔لڑ جھگڑ کر کچھ تو طے کرنا ہی تھا۔اتنے میں ایک اونٹ والا کہیں سے آگیا۔اس سے پوچھا کہ مزار کہاں ہے۔ اس نے کہا کہ بس یہ پہاڑ جہاں ختم ہوتا ہے اس کے آگے ایک خشک ندی ہے اس سے سیدھی جانب چلے جاؤ  وہاں سے پہاڑی کے ساتھ ساتھ چلے جاؤ آگے کھجوروں کے پاس  چراغ جل رہا ہوگا وہی مزار ہے۔زیادہ دورنہیں ہے تھوڑا ہی ہے۔دو آدمیوں کو گاڑی پر چھوڑا کہ ان کے پاس چپلیں نہیں تھیں اور ننگے پاؤں بچھو کا ڈر تھا۔  ایک بچھو کیا نظر آیا تھا سب کے دماغ میں بچھو بھر گئے تھے۔باقی آدمی نیاز پکانے کے چاول بکرا  اور دیگر سامان ساتھ لے کر  اندھیرے  میں پہاڑ کے ساتھ ساتھ چل دئیے،ان میں میں بھی تھا۔اس دور میں پانی کی یہ بوتلیں جو آج ہر گھر میں کولڈ ڈرنک کی رکھی نظر آتی ہیں  ان کا نام نشان تک نہ تھا۔ پانی یا تو مشک میں لے جا سکتے تھے یا شیشے کی بوتل یا تھرماس میں۔آج کی طرح نہیں کہ بوتل اٹھائی اور چل دئیے۔ اندھیرے میں اونٹ والے کے بتائے ہوئے راستے پر چل دئیے اور بھٹک گئے۔نہ کہیں ندی نظر آئی نہ کھجوریں نہ چراغ۔چلتے چلتے آدھی سے زیادہ رات ہو گئی۔ ہوائی چپلوں میں ببول کے کانٹے  چپل کے پار ہو کر پیر میں چبھ رہے تھے اور  ہر کانٹا بچھو  کاٹے سے کم نہ تھا۔ اس دور میں جنگلی حیات کی بھرمار تھی۔ کہیں سے گیدڑ تو کہیں سے بھیڑیوں تو کہیں سے کسی اور جانور کی آوازیں ہمارے اوسان خطا کرنے کو کافی تھیں۔ پتوں پرچوہے کے دوڑنے کی آواز بھی لگتا تھا بھیڑئیے کے  آنے کی ہے۔ بچھوؤں کا خوف الگ۔ ایک صاحب نے کہہ دیا کہ بکرا ساتھ ہے اسے دیکھ کر بھیڑئیے پیچھا کر رہے ہیں۔بس سب کی جان نکل گئی کہ واقعی ایسا ہی ہے۔  دو گدھے آرہے تھے   جن  کوہم  سوّر سمجھے۔ ہم بھاگ لئے۔جس نے بکرا پکڑا ہوا تھا وہ بکرے کو گالیاں دے رہا کہ کمبخت بھاگ ابے بھاگ سور تجھے تو ماریں گے مجھے کیوں مروارہا ہے۔ زبردستی کی تو بکرا دھڑام سے نیچے جا پڑا۔ وہ اسے اٹھا کر دوڑے۔ وہ تو ہمیں بھاگتا دیکھ کر  نمعلوم کیوں وہ ڈھینچوں ڈھینچوں کرنے لگے تو جان میں جان آئی۔  گدھے کی ڈھینچوں زندگی میں پہلی مرتبہ بلبل کی آواز سے بھی بھلی لگی۔ایک سمجھدار نے مشورہ دیا کہ یہ گدھے اپنے گھر جارہے ہونگے ان کے پیچھے چلیں  تو کسی بستی میں پہنچ جائیں گے۔اب زندگی میں یہ وقت بھی دیکھنا تھا کہ گدھے کو  رہنما بنانا پڑا۔ یہ تو اس واقعے کے پچاس سال بعد پتہ چلا کہ رہنما تو ہوتے ہی گدھے ہیں۔بہر حال چپکے چپکے ان کے پیچھے چل پڑے۔چلتے چلتے  دو گھنٹے بعد وہ گدھے ہمیں ایک جھونپڑی پر لے گئے۔جو اندر سےبند تھی۔جھانکا تو ایک شخص سو رہا تھا۔بہت آوازیں دیں تو اندر سے بلوچی میں آواز آئی کہ  کون ہے۔بتایا کہ مسافر ہیں راستہ بھول گئے ہیں۔  بندہ باہر آیا اور ہماری معصوم شکلیں دیکھ ہمیں بٹھایا۔پانی پلایا ۔ اپنی داستان سنائی اور کچھ کھانے کو مانگا ۔  چائے کو کہا تو کہنے لگا  راشن ہے یابس پچھلے سال کی رمضان کی کھجوریں پڑی ہیں۔اس  کا کنستر اس نے ہمیں دے دیا۔ یہ کھجوریں کیا تھیں ،کھجوروں کو کنستر میں ڈال کر کو ٹ کوٹ کر پیک کیا ہوا تھابس تلے میں لگی ایک کلو ہونگی ۔ ان میں سرسریاں  گھوم رہی تھیں  جو ہم نے ہٹا ہٹا کر کھائیں۔چینی پتی تھی  جس سے اس نے قہوہ بناکر دیا وہ پی کر  ہم چٹائیوں پرلیٹ گئے۔ بکرے نے  میں میں کرنا شروع  کر دیا ،شائد بھوکا تھا۔اب ایسے  اندھیرے میں اسے کہاں سے گھاس لا کر دیتے۔اس کی آواز بڑھتی گئی۔کم بخت ایسے ڈکار رہا تھا جیسے اس کے گلے پر کوئی چھری پھیر رہا ہو۔ایک تو ہم ویسے ہی پریشان اوپر سے میں میں کا مستقل عذاب۔کمبخت کو قتل کرنے کا دل چاہ رہا تھا۔اس آدمی نے بتایا کہ  ہم گدھوں کے پیچھے لگ کر   مزار کے راستے سے بہت دور نکل آئے تھے۔ابھی اندھیرا ہی تھا کہ ایک شتر سوار کہیں سے اس  دکاندار کے پاس آگیا۔ نمعلوم بلوچی میں کیا خبر سنائی کہ  وہ ہمیں مزار کا راستہ بتا کر  جلدی میں  اونٹ پر بیٹھا اور  چلا گیا۔ہمارے بلوچ نے بتایا کہ کسی  بڑےسردار کا  ان کے علاقے بیلہ میں جلسہ ہے اور پورا علاقہ اس جلسے میں گیاہوا ہے ۔یہ بھی وہیں گیا ہے۔
صبح ہو گئی ہم لیٹے رہے اس امید پر کہ  کوئی تو اس دکان پر آئے گا  اس سے راستہ پوچھ لیں گے۔کوئی نہیں آیا۔ وہ اندھیرے میں نمعلوم کیا کیا بتا کر چلا گیا تھا۔جب دن کے نو بج گئے تو طے کیا کہ   جدھر بتایا ہے ادھر چلتے ہیں کوئی اللہ کا بندہ تو ملے گا۔ہمیں جن دو  آدمیوں کو گاڑی پر  بھوکا پیاسا چھوڑ آئے تھے ان کی بھی فکر تھی ۔بکرےکو لے کرچلے۔ بھٹکتے بھٹکتے نمعلوم کدھر جا رہے تھے کہ  دو خواتین نظر آئیں۔ان سے پوچھا کہ مزار کدھر ہے  انہوں نے  ایک جانب اشارہ کیا اور ہم اس راستے پر چل دئیے۔راستے میں ایک ندی آئی اس میں سے پانی پیا ۔دوپہر ہو گئی تھی اور ناشتےکھانے کا پتہ نہ تھا۔بکرے نے بھی پانی پیا  اور ایک لمبی میں میں ایں ایں کے ساتھ دھڑام سے زمین پر گر گیا۔منہ کھل گیا آنکھیں باہر آرہی تھیں۔لگتا تھا آخری وقت  تھا  اس بیچارےکا بلکہ   کمبخت کا ،کیونکہ اس کے بخت ہمارے ساتھ جو نتھی تھے۔۔اللہ جانے مر گیا تھا یا عالم نزاع میں تھا۔۔میں اس دور میں اپنے آپ کو ٹارزن سمجھتاتھا۔اسی لئے وزیر آباد کا چھ آنے والا چاقو جس پر لکھا تھا چاقو قلم پنسل نہ بنائے تو قیمت واپس ہمیشہ ساتھ رکھتا تھا۔ ابا کے ساتھ  پنڈی  جاتے میں  ٹرین کے پھیری والے سے خریدا تھا ۔قاسم بلوچ  کے کہنے پر میں نے  اپنا ٹارزن چاقو نکالا اور بکرے کی گردن پر  پھیر دیا۔آج یہ ٹارزن چاقو  کام آ ہی  آگیا۔ ۔مالک کی گھبراہٹ دیکھئیے کہ بکرا لے آئے اور چھریاں سوزوکی میں چھوڑ آئے۔ گردن کاٹ دی  خون نہ  نکلا۔بکرے کی باڈی دبا دبا کر چند بوند خون نکال ہی دیا اس طرح اس کے حلال ہونے کی شرط پوری کر دی۔سب نے اپنی اپنی رائے دی کہ زندہ تھا جبھی تو خون نکلا۔حلا ل ہے، حلال ہے ،صحیح ہے صحیح ہے،اللہ کا شکر ہے حرام موت سے بچ گیا وغیرہ غیرہ۔اسی چاقو سے اس کی کھال اتاری۔ دس بار اسے پتھروں پر تیز کیا  تب جاکر کھال اتاری۔اس کا اوجھڑی پوٹا پھینکا،کلیجی وغیرہ ایک رومال میں باندھی،میری دھوتی گیلی کر کے اس بکرے کے گوشت کے گرد لپیٹ دی گئی۔اب پھر یہ قافلہ چلا۔تھوڑی دور چلے ہونگے کہ ایک نے مشورہ دیا سارا سامان ساتھ ہے۔پیچھے ندی میں  پانی بھی ہے۔لکڑیاں بھی جنگل میں ہیں ۔یہیں پکا لیں اپنا حصہ کھا لیتے ہیں نیاز کا مزار پر بانٹ دیں گے۔واپس ہوئے۔ابھی تیاری شروع کی تھی کہ ایک بندہ  کہیں سے اونٹ پر آ گیا۔اس سے مزار کا راستہ پوچھا اس نے کہا بس نزدیک ہی ہے۔یہ پہاڑ کے پیچھے ہے ۔ اس نے ہمارا سارا سامان گوشت  سمیت اونٹ پر باندھا اور ہمارے ساتھ چل دیا۔
آخر کار اس نے ہمیں مزار پر پہنچا دیا ۔لیکن یہ وہ مزار نہیں تھا جس پر ہمیں جانا تھا۔جس پر جانا تھا اس کا نام تھاپیر کنانواور یہ تھا گم نام۔ ایک قبر بنی ہوئی تھی ایک بڑا سا درخت اس پر ایسے تھا کہ دس پندرہ آدمی اس کے سائے میں بیٹھ سکیں۔اس پر بابا آدم کے زمانے کی ایک ہری چادر پڑی تھی۔اونٹ والا اتنی ہی زبان سمجھا کہ ہمیں کسی تربت پر جانا ہے۔ہمارا بلوچ تو بس واجبی سی بلوچی جانتا تھا اور یہ علاقہ کسی اور طرح کی بلوچی بولنے والوں کا تھا۔ اس نے نزدیکی تربت پر پہنچا دیا۔شکر ہے کہ اس مزار کے نزدیک ایک چھوٹا سا پانی کا چشمہ تھا۔اس کے پاس کلہاڑی تھی جس سے اس نے ہمارے بکرے کا گوشت بنا دیا ۔اس نے یہ بتا دیا کہ پیر کنانا یہاں سے بہت دور چار گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ اور بیلہ یہاں سے دو گھنٹے کے فاصلے پر ہے۔بیلہ کا راستہ بھی بتا دیا۔ وہ ہمیں یہاں پہنچا کر  اپنے راستے پر چل دیا ۔ ہم نے یہیں نیاز کرنے کا فیصلہ کیا۔بکرے کی بریانی پکائی۔ کوئی دوسرا نہیں آیا خود ہی کھائی۔شام ہو رہی تھی اور پارٹی میں خوب لڑائی جھگڑا ہو رہا تھا۔کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کدھر جائیں اور کیا کریں۔چند بچے بکری چرانے والے گزرے۔انہیں اردو نہیں آتی تھی اور ہمارے بلوچ کو ان کی بلوچی نہیں آتی تھی۔بچے براہوی زبان بول رہے تھے۔اتنا سمجھ گئے کہ اپنے کسی بڑے کو بھیج دیں۔بچے چلے گئے۔ہمیں فکر اپنے ان دو ساتھیوں کی تھی جو سوزوکی میں تھے۔انہیں چھوڑے ہوئے چوبیس گھنٹے سے زیادہ ہو چکے تھے۔اب پھر رات ہونے والی تھی۔ہم ان بچوں کے بڑوں کا  انتظار کر رہے تھے جو کسی طرح پورا ہوتا نظر نہیں آرہا تھا۔درختوں اور پہاڑیوں  میں  دور جاتا کتّا یا گیدڑ بھی ہمیں بھیڑیا معلوم ہوتا تھا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بھیڑئیے اس زمانے سے اب تک اس علاقے میں پائے جاتے ہیں۔انسانوں پر حملے کے بھی جھوٹے سچے قصے سن رکھے تھے۔اس لئے خوف بھی تھا۔ واحد ہتھیار  بس میرا ٹارزن چاقو تھاجو گوشت کاٹنے کے دوران اپنی کمر تڑا بیٹھا تھا۔اب ہم میں سے دو کی ہوائی چپل بھی۔کپڑے سے باندھ کر چلائی جا رہی تھیں۔رات ہو گئی کوئی نہیں آیا۔بیلہ والے راستے پر چل دئیے۔ان علاقوں میں مغرب کے بعد سب اپنے گھروں میں ہوتے ہیں۔اب تو کسی کے ملنے کا بھی آسرا نہ تھا ۔جنگل کے راستے ایسے ہی ہوتے ہیں کہ  جو جانتا ہے وہی ان پر جاسکتا ہے۔جہاں ایک سے دو راستے ہوئے اور نیا آدمی پریشان ہوا۔ان راستوں میں بھٹک کر بھوک  پیاس سے لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں۔جس قبر پر ہم نے کھانا پکایا تھا وہ بھی کسی ایسے ہی بھٹکے ہوئے مسافر کی تھی جسے مقامیوں نے دفن کر دیا تھا۔اسی لئے اس کا کوئی نام نہیں تھا۔ہمارا بھٹکنا لازمی تھا۔راستے سے  لکڑیاں توڑ کر ڈنڈے بطور ہتھیار بنا لئے تھے۔آدھی رات تک چلتے رہے پیاس سے برا حال۔کوئی پانی نہیں۔ایک جگہ تنگ آکر بیٹھ گئے۔بچا ہوا کھانا کھا لیا۔بغیر پانی کے کھانا اندر نہیں جا رہا تھا۔ایک نے مشورہ دیا کہ  الاؤ جلا لو جنگلی جانوروں سے بچت ہو جائے گی اور شائد کوئی روشنی دیکھ کر ہماری طرف آجائے۔
ساری ترکیبیں ناکام ہو گئیں۔ رات بھر کوئی نہیں آیا۔یا اللہ جائیں تو کہاں جائیں۔پیاس سے برے حال کی وجہ سے ایک صاحب نے تو چلنے سے انکار کر دیا۔کہ وہ  کہنے لگے کہ میں ایک قدم نہیں چل سکتا۔آپ لوگ جہاں مرضی آئے جائیں۔میں یہیں مروں گا۔ رات سے وہ خاموش تھے ہم سمجھے کہ یونہی خاموش ہیں ۔اب اندازہ ہوا کہ ان میں پانی کی کمی ہو گئی ہے اور ان کی حالت بہت زیادہ خراب ہے۔طے ہو اکہ ارد گرد پانی ڈھونڈا جائے۔پہاڑ پر چڑھ کر ادھر ادھر دیکھا۔ ایک سوکھی ندی نظر ائی۔دو آدمیوں کو ادھر بھیجا  پتیلا دے کر کہ ندی میں چلتے جانا کہیں نہ کہیں پانی مل جائے گا پانی لے کر واپس  آجانا ۔وہ جلد ہی پانی لے کر واپس آگئے۔سب نے پیا اور ان صاحب کی حالت بھی ٹھیک ہو گئی۔ایک بکری چرانے والا بھی ندی سے آتا ہوا نظر آیا۔اس سے ملاقات ہوئی ۔اس نے بتایا کہ تم لوگوں کو توپوری بیلہ پولیس  اور سردار تلاش کر رہے ہیں۔کل تمہارے دو آدمیوں کے ساتھ پولیس والے آئے تھے اور تم لوگوں کو پوچھ رہے تھے۔۔پھر سردار کے آدمی بھی آئے تھے وہ بھی پوچھ کر پیر کنانو کی طرف گئے ہیں۔اب ہماری جان میں جان آئی کہ  ہم بھٹک کر نہیں مریں گے لوگ ہماری تلاش میں ہیں۔اس کو ہم نے بتایا کہ ہم نے  کل سے کچھ نہیں کھایا۔ہماری مدد کرے۔ وہ ہمیں اپنے گھر لے گیا۔وہاں چند گھر تھے۔ان سب نے مل کر ہمارے لئے کھانے کا بندو بست کیا۔بکرا کاٹ کر پکایا اور گرم گرم روٹیاں پکا کر لائے۔ایک آدمی کو اونٹ پر روانہ کیا کہ وہ سردار کو ہماری خبر کرے۔
شام چار بجے کے قریب تین جیپوں میں ہمارے دونوں آدمی، سردار  اور اس کے آدمی  اور پولیس والے   ہمارے پاس آئے۔ان کے ساتھ ایک ڈاکٹر اور کمپاؤنڈر بھی تھا۔یہ  ریسکیو ٹیم تھی جو ہمیں تلاش کر رہی تھی۔ڈاکٹر نے ہمارا حال  پوچھا چیک کیا سب کو نمک چینی کا پانی پلایا۔وہاں سے ہم اپنی سوزوکی پر لےجائے گئے۔جسے باندھ کر بیلہ تک لایا گیا۔وہاں ایک مکینک کو بلا کر اسے ٹھیک کرنے کا کہا۔ہمیں چوکی پر لے گئے جہاں اور کچھ لوگ ہمیں ملنے آئے میرا خیال ہے یہ ضلعی افسران ہونگے۔جب تک گاڑی بنتی رہی ہم سب بات چیت کرتے رہے۔ہمارے بعد یہ ہوا کہ وہ دو آدمی گاڑی میں بیٹھے رہے۔پیر کنانا سے ایک جیپ آرہی تھی جو وائلڈ لائف والوں کی تھی۔ ان دونوں نے ان کو اپنی کہانی سنائی اور کہا کہ ہمارے آدمی پیر کنانا گئے ہوئے ہیں۔ابھی تک نہیں آئے۔ہم بھی کل سے بھوکے پیاسے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم تو وہیں سے آرہے ہیں وہاں تو کوئی نہیں۔وہ انہیں اپنے ساتھ بیلہ لائے۔کھلایا پلایا اور پولیس کو اطلاع دے دی کہ کچھ زائرین گم شدہ ہیں۔انہوں نے وائرلیس  پر  سردار کی سکیوریٹی چوکی پر اطلاع دی۔اور سرچ آپریشن شروع کر دیا۔کل سارا دن یہ ہمیں ڈھونڈتے رہے۔ہم بالکل ہی غلط ٹریک پر تھے۔مزار اگر شمال کی جانب تھا تو ہم جنوب کی جانب جا رہے تھے۔ان لوگوں نے لیمارکیٹ جانے والی بس کے ڈرائیور سے گھر والوں کو پیغام  بھی بھجوا دیا تھا کہ گاڑی خراب ہوگئی ہے ایک دن دیر سے آئیں گے۔
سردار نے کہا جب بھی مزار پر جانا ہو جیپ میں جانا اگر جیپ کا بندوبست  نہ ہو تو میرے پاس آجانا جیپ دے دونگا۔یہ راستہ سوزوکی کے قابل نہیں ہے۔ پہلے کچھ ٹھیک تھا اب تو بہت خراب راستہ ہو گیا ہے۔گاڑی ٹھیک ہوئی سردار اور پولیس آفیسر نے ہمیں  دعائیں دے کر خدا حافظ کہا۔نہ گاڑی ٹھیک کرنے کے اور نہ ٹینک فل کرنے کے کوئی چارجز لئے۔ وہاں سے چلے اور آدھی رات کو لیمارکیٹ  قاسم بلوچ کے گھر پہنچے۔قاسم بلوچ نے مجھے نالے پر گرم گرم چھوٹے کے پائے نان کھلائے،جمعہ پائے والا مشہور تھا چوبیس گھنٹے پائے ملتے تھے۔پائے کھا کر دو دودھ پتی کا آرڈر دیا۔اسے خدا حافظ کہا۔اپنی سائیکل اٹھائی۔اس کی سیل والی لائیٹ جلائی اور گانے گاتا ہوا ناظم آباد میں اپنے فلیٹ پر پہنچ  گیا۔اکیلا رہتا تھا میرا کون منتظر تھا جو کوئی فکر ہوتی ۔اب جو سویا  تو شام کو جب اٹھا جب فلیٹ کے نیچے والا محفوظ الرحمان بنگالی کٹا کٹ مچھلی فروش بنگال سے آئے ہوئے  ناریل تحفے میں دینے اوپر آیا۔آج جب نصف صدی بعد پیر کنانا اپنی بائیک پر گیا تویہ نام بھی یاد آگیا اور ساری کہانی کی یادیں بھی تازہ ہو گئیں۔مرحوم قاسم بلوچ بھی یادآگیا۔








Monday, March 26, 2018

ہالیجی جھیل اور ایرانی طلباء


ہالیجی جھیل اور ایرانی طلباء
رانا عثمان صاحب نےراکاپوشی ٹریک پر دو سیّاحوں کی انڈوں اور چائے سے خدمت کرنے پر ایک سند قبولیت پاکستان اور پاکستانیوں کے لئے حاصل کی۔ جس کی بے حد خوشی ہے۔اس پر اس بندہ بشر کو بھی ایک چالیس سال پرانی آپ بیتی یاد آگئی جو آپ لوگوں سے بانٹنا چاہوں گا۔یہ سن 1975 کی بات ہے کہ محلّے کے پانچ آوارہ سے دوستوں کے ساتھ  ہالیجی جھیل جانے کا پروگرام بنا۔ اس وقت ان میں یہ بندہ ہی ایک سینئر تھا 28 برس کا باقی سب چھوٹے یعنی ٹین ایج کے تھے۔ایک تھے ان میں اسلم باورچی۔ انہوں نے ہالے جی جانے کے لئے جن لوگوں کا بھی کھانا اس دن پکایاتھا اس میں سے شیر مال اور قورمہ ماردیا اور ہمارے مزے آگئے۔اس کھانے کو ایک پتیلے میں رکھ کر کپڑے سے باندھ دیا۔بس نمبر ون ڈی میں اورنگی سے تین ہٹی  جانے کے لئے یہ کھانا بس کے اندر فرش پر رکھ دیا۔ ایک صاحب نے اس کو پیر سے پیچھے کو کر دیا۔اسلم نے کہا کیا کرتے ہو بھائی اس میں کھانا ہے۔ اس پر انہوں نے ایک اور لات کھانے کو ماری اور کہا کہ اسے  راستے سے ادھر کرونا۔اسلم کا پارہ چڑھ گیا اس نے ان صاحب کو دو چار زور دار قسم کے جھانپڑ رکھ دئیے۔ وہ  پِٹ کر آگے بڑھے اور لگے اول فول بکنے اسلم کو۔ وہاں ہمارے جناب کمال صاحب  کھڑے تھے دو انہوں نے رسید کر دئیے ۔ وہ بک بک کرتے اور آگے آگئے ۔دیکھئے بڑوں کی کوئی عزت نہیں،سالے ٹکے ٹکے کے چھوکرے  ہیں بس میں بدمعاشی مچا رہے ہیں اور کوئی پوچھنےوالا نہیں ۔میں یوں کر دونگا  ووں کر دونگا لالو کھیت آنے دو۔ اب وہ  کمال سے آگے آچکے تھے اور ان کی زبان تمام حدود پار کر رہی تھی۔اتنے میں جمال صاحب کا ایک زور دار دھماکے دار تھپڑ پڑا ساتھ میں آواز ائی کہ چپ ہوتا ہے یا نہیں ۔اور آگے آئے تو محفوظ بھائی نے بھی دو ہاتھ رکھ دئے کہا کہ اسلم چھرا نکال کے لا ۔ وہ سب سے پٹتے بچتے خواتین کے حصے کے دروازے کے پاس جہاں میں کھڑا تھا تشریف لے آئے۔مجھے مخاطب کر کے کہنے لگے دیکھا آپ نے۔میں نے عرض کیا کہ کیا آپ کی ابھی تسلی نہیں ہوئی۔خاموشی اچھی چیز ہے۔اب چپ ہو جائیے میں بھی ان کا ساتھی ہوں۔ایسا نہ ہو کہ مجھے بھی کوئی ایکشن لینا پڑے۔  بیچارے لاھول ولا پڑھتے ہوئے  خواتین کے دروازے سے نیچے اتر گئے۔
                ہالے جی میں جاتے ہی مچھلی لگنی شروع ہو گئی۔ ایک پاؤ سے ڈیڑھ کلو تک کی سول مچھلی لگ رہی تھی۔سب نے جی بھر کر ماری۔شام ہو گئی۔ہمیں وہاں رات گزارنی تھی۔شام ہوئی۔اب مچھلی کا کیا کریں۔کمال سب سے چرب زبان تھا۔ ایک بوری پر ساری رکھ کر سجا کر اسے فروخت کرنے کا کام دےدیا۔ اس نے دو مچھلیاں تین ر وپے کی بیچ دیں،پھر پانچ کے تین روپے۔کوئی ایک ہی تین روپے کی۔ عرف عام میں جیسا منہ ویسا تھپڑ ۔جیسا گاہک دیکھا بس بیچ دیں جان چھڑانی تھی۔ غرض آدھی مچھلیاں بک گئیں۔ابھی بھی بیس کلو  کے قریب باقی تھیں۔میرے مشورے پر ان کو تل کر رکھنا بہتر تھا ورنہ خراب ہو جاتیں۔صفائی کی،کڑھائی چولہے پر  چڑھائی اور عمر مرحوم نے تلنا شروع کیا۔دو پرانی پیٹیوں پر اخبار بچھا کر مچھلیاں تل کر رکھنی شروع کیں گرم گرم تھی کھاتے بھی گئے۔ بہت دلنشیں بلکہ ناک نشیں خوشبو دور دور تک پھیل رہی تھی۔
                اس وقت بھٹو صاحب کی حکومت تھی اور سعودیہ کےشاہ فیصل،ایران کے شہنشاہ آریہ مہر،کیوبا کے کاسترو، یوگنڈا کے عیدی امین،مصر کے جمال ناصر ،لیبیا کے معمر قذافی انڈونیشیا کے سوئیکارنو ہمارے  گہرے اور سچےدوست تھے ۔ ایران سے ہمارے تعلقات بہت اچھے تھے ۔بھٹو صاحب ایران کے داماد تھے۔ کراچی یونیورسٹی میں ایرانی طالبعلموں کی بڑی تعداد  زیرتعلیم تھی۔ایک بس ایرانی طالبعلموں کی خوشبو سونگھ کر رک گئی۔ تازہ مچھلی کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔مجھ سے پوچھا کہ بیچتے ہو۔ میں نے کہا کہ ہاں۔بھاؤ بتاؤ۔میں نے کہا کہ بہت سستی ہے خوب کھاؤ۔ کوئی پچاس طلباء تھے۔ وہ اپنی طرف سے شرارت کر کے کھا رہے تھے۔آپس میں باتیں کر رہےتھے کہ  کوئی تولنے کی چیز تو ہے نہیں۔وزن کم بتائیں گے اور کم پیسے دیں گے۔ فارسی زبان میں جو کچھ انہوں نے آپس میں کہا ان کی باڈی لینگویج اور لینگویج سے کچھ کچھ سمجھ آرہی تھی۔میں نے انہیں اٹھا اٹھا کر گرم گرم مچھلی دی۔ سب کو کھلائی،خوب کھلائی۔ہمیں تو جان چھڑانی تھی۔ہم تو پہلے ہی کھا کھا کر تنگ آچکے  تھے۔لگ بھگ ساری مچھلی وہ کھا گئے۔ اب انہوں نے قیمت پوچھی۔اردو  وہ کم جانتے تھے۔ میں نے  انگریزی میں کہا کہ میں خود یونیورسٹی کا طالبعلم ہوں۔آپ لوگ میرے یونیورسٹی کے ساتھی ہیں۔ ہم لوگ دکاندار نہیں شکاری ہیں، عید کے موقع پر سیرو شکار پر آئے ہیں اور آپ ہمارے ایرانی بھائی ہیں۔ ہم پیسے نہیں لیں گے۔ اس پر وہ بہت ہی خوش ہوئے۔
                اب انہوں نےکیا کیا۔ایک پیٹی آم ،آدھی پیٹی انگور،کوئی تیس شیرمال،دس برگر اور نامعلوم کیا کیا بس سے اتار کر ہمیں دے گئے۔لاکھ منع کیا لیکن بس برادر برادر کر کے چلے گئے اس دور میں برگر کوئی عام کھانا نہ تھا ایسا تھا جیسے آج پیزا۔ برگر فیملی نام اسی لئے ہے کہ پہلے عام آدمی کی پہنچ سے برگر باہر تھا۔پہلے تو ہم مچھلی سے تنگ تھے۔اب ان چیزوں سے تنگ ہو گئے۔دن بھر سے کھا کھا کر پہلے ہی پیٹ بھرے تھے اور کیا کھاتے۔کچھ کل کے لئے رکھ کر باقی مقامی بچوں میں بانٹ کر جان چھڑائی۔رات تاش کھیل کر اور شمشاد بیگم کے گانے سن کر کچھ سو کر گزاری۔ پروگرام یہ ہوا کہ صبح سویرے شکار کریں گے دو یا تین گھنٹے اور گھر کے لئے تھوڑی تھوڑی  مچھلی مار کر جلدی نکل جائیں گے۔لیکن لگتا ہے  لالو کھیت کےپٹے ہوئے مسافر کی بددعا لگ گئی۔وہی پانی، وہی ہوا، وہی چارہ،وہی گھاٹ ،وہی بادل وہی ہم اور وہی ڈور کانٹےبہ زبانِ شاعر، عہ،
ہے یہ وہی آسماں اور ہے وہی زمیں ۔پر میری تقدیر کا یہ وہ زمانہ نہیں
۔ شام ہو گئی۔ایک مچھلی نہ لگ کر دی۔دوپہر کو بخشش کا دیا ہواکھانا کھایا اور لوٹ کے بدھو ، پانچ میل پیدل پھر بس ،گھر کو آئے۔
                عمرصاحب کا دس سال پہلے انتقال ہو چکا،جمال صاحب ہیروئن  پی  پی کرمر گئے،اسلم کا اپنا پکوان سنٹر ہے جسے بچے چلاتے ہیں وہ اپنے ڈیڑھ سو کلو وزن سے پریشان ہیں گھر کو ہسپتال بنایا ہوا ہے ۔محفوظ صاحب  مفلسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔کمال صاحب بزنس میں ایسے مصروف ہیں کہ ماربل کی مائنز سے بمشکل وقت نکال کر بچوں سے ملنے آتے ہیں۔کراچی یونیورسٹی میں اب کوئی ایرانی طالبعلم نہیں ۔ہالے جی جھیل ڈاکوؤں کا گڑھ بن چکی۔ جھیل میں سول مچھلی تو کجا اب مینڈک بھی نہیں پائے جاتے۔بندہ اُس وقت پانچ میل  پیدل چل کر مین روڈ سے اندر ہالے جی جاتا تھا اب پیدل باتھ روم کے علاوہ کہیں نہیں جاتا۔
                آہ کیا لاپرواہی اور فرصت کے دن تھے جو ہوا ہو گئے۔
شمیم الدین غوری کے لیپ ٹاپ سے ایک تحریر


چڑیل کی بیٹی


چڑیل کی بیٹی
گھرمیں تیاری ہو رہی تھی کہ میرے ابّا آرہے ہیں۔انکے لئےنئی چارپائی اور بستر تیار کیاگیا۔ولایت سے چار سال بعد آرہے تھے  ۔میں اس وقت پانچ سال کا ہونگا ۔آخر کار دوپہر کو دادا جاکر انہیں لے آئے۔ابا کے ساتھ ایک لڑکی تھی ۔سنہرے بالوں والی اور نیلی آنکھوں والی۔گھر میں میرے علاوہ کوئی بچہ نہ تھا ۔ ابا نے کہا کہ بیٹا یہ تمہاری بہن ہے۔اسے انگریزی میں بتایا کہ یہ تمہارا بھائی ہے۔وہ میری ہم عمر ہی تھی یا کچھ بڑی تھی۔وہ برادر برادر کہہ کر  مجھے پیار کرنے  لگی ۔ ہم کھانا کھا کر شام تک اکٹھے کھیلتے رہے۔ اس نے مجھے ایک تصویروں والی بہت اچھی گتے نما صفحوں والی  کتاب تحفے میں دی۔ اسے اردو اور مجھے انگریزی نہیں آتی تھی۔لیکن آپس میں ہم کئی گھنٹےبات کرتے رہے۔ اس نے مجھے اپنا ایک فوٹو بھی دیاجو اس  نے اپنے  ا سکول کے لئے کھنچوایا تھا۔اس میں وہ  بالکل پری لگ رہی تھی۔
رات کے کھانے کے بعد امی اور ابو میں لڑائی ہوتی رہی۔ہوتی ہی رہی جب تک ہم دونوں سو نہ گئے ہمیں ان کے لڑنےکی آوازیں  آتی ہی رہیں۔جب میں صبح اٹھا تو ابو اور  میری بہن گھر میں موجود نہیں تھے۔میں نے امی سے پوچھا کہ ابو کہاں گئے۔انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔میں نے کہا کہ انہوں نے سائیکل دلانے کا وعدہ کیا تھا لینے گئے ہونگے۔میرے بستر پر وہ کتاب رکھی تھی اور اس میں وہ تصویر۔میں  تصویر نکال کر دیکھنے لگا اور امی سے پوچھا کہ امی یہ کون ہے اتنے پیارے سنہری بالوں والی لڑکی؟ امی نے وہ تصویر  میرے ہاتھ سے لی اور کہا کہ یہ چڑیل کی  لڑکی ہے۔ چڑیل ہے  دور کرو اسے یہ تمہیں کھاجائے گی۔تصویر کے چار ٹکڑے کئے اورز مین پر پھینک دئے۔میں نے انہیں اٹھایا اور  اس کتاب میں رکھ کر اسکول چلا گیا۔
واپس آکر اس کتاب میں سے تصویر کے ٹکڑ ےنکال کر   جوڑا اور اسے کتاب میں رکھ کر کتاب چھپا دی کہ کہیں امی کی نظر نہ پڑ جائے۔کچھ دنوں بعد  ایک آدمی ایک بہترین چمکدار سائیکل لے کر آیا اور دادا جان سے میرا نام پوچھ کر  دادا جان کے دستخط لے کر سائیکل مجھے دے کر چلا گیا۔ابا جان نے اپنا وعدہ پورا کر دیا تھا۔
وقت گزرتا رہا۔دادا دنیا چھوڑ گئے۔ابا جان نہ آئے۔ امی کے آگے تو ابا کا نام لینا قیامت تھا۔دادا بتاتے تھے کہ میرےابا نے ولایت میں شادی کی ہوئی تھی لیکن میں نے ان کی ایک نہ سنی اور یہاں شادی کر دی۔دادا کے بعد مجھے ابا جان کے بارےمیں بات کرنے کے لئے کوئی میسر نہ تھا۔امی نے میرے اسکول میں میرے باپ کے نام کے خانے میں اپنے باپ یعنی میرے نانا کا نام لکھوا دیا تھا۔امی کے مرنے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ میں تو اپنے باپ کے نام سے بھی واقف نہیں ہوں۔اتہ پتہ تو کیا ملے گا نام تک معلوم نہیں۔بہن کو میں ہمیشہ یاد کرتا رہا۔ وہ تھی ہی اتنی خوبصورت کہ بھلا نہیں سکتا تھا۔
آج میری بیٹی نے اسٹور میں سے وہ کتاب نکال کر پوچھا پاپا اس اینیمل بک میں یہ کس کی تصویر ہے اتنی پیاری سنہرے بالوں والی لڑکی۔میں جواب تو کیا دیتا۔مجھے وہ دن اور وہ خوشگوار ماحول یاد آگیا ۔ اس کا وہ پیار،وہ تحفہ وہ فوٹو،وہ امی کا چڑیل کی بچی کہہ کر تصویر پھاڑ دینا۔۔وہ دن خوشگوار تھا یا منہوس کہ اس دن کے بعد نہ زندگی میں کبھی ابا جان نظر آئے اور نہ وہ سنہرے بالوں والی آپاجان۔کاش ایک بار تو مل لیتا۔ والد صاحب اور بہن سے بس وہ پہلی اور آخر ی  ملاقات تھی۔میں نے تصویر لے کر دیکھی لگتا تھا مجھے ہی دیکھ رہی ہے۔جیسے کہ رہی ہو بھائی ایسے ہوتے ہیں۔
بچپن کی پڑھی ہوئی ایک کہانی سے ماخوذ۔
شمیم الدین غوری کے لیپ ٹاپ سے

               


Monday, June 5, 2017

بلوچستان 1850 کلو میٹر آن بائیک


بلوچستان آن بائیک 1850 کلو میٹر

ایک عرصے سے خواہش تھی کہ بلوچستان کی ساحلی پٹی پر واقع شہروں کو دیکھا جائے۔ہنڈا 70 پر تو ہمّت نہیں ہو رہی تھی۔بچوں نے میرے سیر سپاٹے کے شوق کے مدنظر مجھے ایک سوزوکی 150 لے کر دے دی کہ اب آرام سے گھوما کریں۔بچوں کے بچپن میں ایک سائیکل تک لینے کے پیسے بڑی مشکل سے ہوتے تھے۔اب اللہ کا شکر ہے کہ انہی بچوں نے لگزری بائیک لے دی۔کوئی ساتھی جوانی کا اب اس قابل نہیں کہ وہ میری آوارہ گردی کا ساتھ دے سکے۔ کوئی بوڑھا ہو گیا،کوئی ابھی دال روٹی  کے چکر سے  ہی نہیں نکل پایا، کسی کی صحت اس قابل نہیں،کسی کی اولاد اسے بائیک پر جانے نہیں دیتی،کسی کے پاس وقت نہیں ہے،کوئی اسے پاگل پن سمجھتا ہے۔کوئی بیچارہ افورڈ نہیں کر سکتا۔کچھ جو ہمت والے تھے بیچارے  اللہ میاں کے پاس چلے گئے۔کچھ نے اللہ سےلو لگا لی اور ان کاموں کو فضول سمجھنےلگے۔اب ایک آپشن تو یہ تھا کہ اکیلا بائیک لے کر نکل جاؤں، دوسرا آپشن یہ تھا کہ غلام نبی مینگل کو ساتھ لے لوں۔ایک بائیک پر دو اگرچہ مناسب نہیں تھےلیکن بالکل اکیلا جانےسے تو یہی بہتر تھا۔ہم دونوں میں بہت سی خصوصیات ملتی جلتی ہیں جن میں سے ایک خاصیت یہ ہے کہ ہم دونوں کی بیگمات ہمیں آوارہ گردی کرنے کے لئے کھلا چھوڑ گئی ہیں۔اب اگر کسی فوٹو میں بہت دور کہیں کوئی دیہاتن نظر آئے گی تو کوئی یہ پوچھنے والا نہیں کہ یہ کون ہے۔اب پتہ چلا کہ یہ کہاں جاتے ہیں۔کیوں اتنے اتنے دن گھر سے باہر رہتے ہیں۔یہ بھاشن سننے کا دور اب ان بیچاریوں کے جانے کے بعد ختم ہو گیا۔ 

غلام نبی کو بتا دیا کہ اتوار 14 مئی کو صبح چھ بجے نکلنا ہے۔چند دن تھے جن میں تیاری کرنی تھی۔ایک چھوٹا سلنڈر کھانا پکانے کے جوڑیا بازار لئے چولہے سمیت سے لیا جس میں بس ایک کلو سے کم گیس آتی ہے۔ پکانے کے برتن ایک چھوٹا پتیلا چاول اور سالن کے لئے،ایک مزید چھوٹا پتیلا چائے کے لئے،تین پلیٹیں دو چائے کے کپ چمچے وغیرہ رکھ لئے،۔ایک چادر بچھانے کی اور ایک اوڑھنے کی رکھ لی۔ایک ہاف کیمپ ساتھ لے لیا جو ایک جانب سے مکمل کھلا ہے۔ مچھلی پکڑنے کا سامان رکھا تھا لیکن جگہ نہ ہونے کی بناءپر  واپس نکال دیا۔ایک کیمرہ سونی کمپنی کا بہت دیکھ بھال کر  ایک زائد بیٹری سمیت 50000 روپے کا  کلفٹن سے خریدا۔سامانِ پنکچر اور بائیک مرمت کا سامان لیا۔ایک ٹیوب پچھلے وہیل کی رکھی۔ سوزوکی 150 میں اگلے پچھلے ٹائرز کا سائز مختلف ہوتا ہے۔اپنی دوائیں ، ایمرجنسی کی دوائیں، مرہم پٹیّ ،سن کرنے کی دوائیں ،ٹانکے لگانے کا سامان،بخاردست وغیرہ کی گولیاں رکھیں۔ کچھ ادویات  ہومیو پیتھک کی رکھیں ۔کچھ ساشے نمکول کے کچھ ٹینک کے لئے تاکہ گرمی اور ڈی ہائیڈریشن سے بچت ہو سکے۔ ایک کولر خریدا ایسا کہ جس کا ڈھکن اور ٹونٹی لیک نہ ہو۔اپنا کارڈ پلیئر ڈیک اور پسند کے گانوں کے کارڈ رکھے۔یہ کارڈ پلیئر بائیک کی  بیٹری سے چلتا ہے اوربہت تیز آواز دیتا ہے۔آدھی رات کو جب کسی جھونپڑی ہوٹل کے باہر سناٹے میں بائیک پر لتا کے پرانے گانے بج رہے ہوں تو ہم تومست  ہو جاتے ہیںساتھ میں دیہاتی تو بالکل پاگل ہوجاتے ہیں۔
تمام تیاریوں کے ساتھ اتوار 14 مئی کی صبح میں غلام نبی کے گھر جانے کے لئے نکل  گیا۔ ناردرن بائی پاس پر ایک ایماندار پٹرول پمپ بائیکو کا ہے۔اس سے سوزوکی 150 کا ٹینک فل کرایا۔ دو انڈے اور دو پراٹھے ساتھ لے کر گیا۔غلام نبی نے بکری کے تازہ دودھ کی چائے بنائی۔ناشتہ کر کے 7 بجے نکل پڑے۔مزیدسامان کی جگہ نہیں تھی اس لئے غلام نبی نے اپنا بیگ اپنے کندھے پر ڈالا جو پورے ٹوور میں اسی طرح اس کا کندھا  سن کرتا رہا۔ حب ندی پار کر کے ساکران سے ہوتے  ہوئے اس کے سسرال پیر کس پہنچے۔یہاں مزید چائے پی۔اسے یہاں کسی سے پیسے لینے تھے جو مل گئے۔پیر کس سے حب چوکی نکلے۔ حب چوکی سے اس نے انڈین درد کُش گولیاں لیں جو سردرد میں اچھا کام کرتی ہیں۔ حب چوکی سے نکلے تو زیرو پوائنٹ پر رکے۔یہاں آکر منہ ہاتھ دھویا۔کچھ ٹھنڈے ہوئے۔126 کلو میٹر کی تھکن اتاری۔غلام نبی نے چائے پی۔زیرو پوائنٹ  آر سی ڈی روڈ پر وہ جگہ ہے جہاں سے بلوچستان کوسٹل ہائی وے بائیں جانب شروع ہوتی ہے جبکہ کوئٹہ روڈ سیدھی چلی جاتی ہے۔
زیرو سے  کوسٹل ہائی وے کی جانب چلے۔ کراچی سے ہی تیز ہواؤں کے جھکّڑ ملے تھے زیرو تک تو یہ بہت طوفانی ہو گئے۔راستے میں بڑے خطرناک بورڈ ہائی وے  والوں نے لگا رکھے ہیں۔اپنا پانی ساتھ لے کر چلیں۔اپنا پٹرول ساتھ لے کر چلیں۔طوفانِ بادوباراں میں گاڑی کسی محظوظ مقام پر روک لیں۔ان بورڈوں کو دیکھ کر آدمی خوامخواہ نروس ہو جاتا ہے۔21 کلو میٹر پر سڑک کے بائی کنارے بسمِ اللہ ہوٹل ہے۔اس کا مالک  میر محمد ایک نوجوان گریجویٹ ہے۔جس نے کسی عارضی حکومتی اسکیم میں اسکول ماسٹر کی حیثیت سے  دو سال نوکری کی ہے۔پھر اسکیم ختم اور نوکری ختم۔اب بس درخواستیں دیتا رہتا ہے۔افسوس یہ ہے کہ ایک دیہاتی علاقے کا نوجوان جو اپنے گاؤں سے پچاس کلو میٹر دور اوتھل کے کالج جاکر روزانہ 100 کلومیٹر سفر کر کے گریجویشن کرتا ہے اس کے لئے نوکری نہیں ہے۔ہم بسمِ اللہ ہوٹل رکے ،اس سے اچھے تعلقات ہیں۔اس نے چائے بسکٹ سے تواضع کی۔کچھ دیر سفر کا وقفہ کر کے آگے روانہ ہوئے۔اب ریت کا طوفان مزید بڑھ گیا تھا۔ بائیک کو پیچھے یا دائیں دھکیل رہا تھا۔ کسی کسی جگہ تو اتنی ریت تھی کہ بڑی گاڑیاں جب بالکل پاس آجاتیں تو ان کی لائیٹیں نظر آتیں۔یہاں سے 53 کلو میٹر پر چھور/فور چیک پوسٹ ہے۔وہاں کے وردی والے ریت میں بھوت بنے ہوئے تھے۔ایسی ہوا کہ اگر گاڑی کا کوئی کاغذ ہاتھ سے چھوٹ جائے تو سمجھو بس ہاتھ نہیں آنے کا۔وہاں روک کر انٹرویو دیا ۔کہاں جارہے ہو ؟ کیوں جارہے ہو۔ کہاں رہتے ہو  وغیرہ وغیرہ لیکن بڑَے شریفانہ انداز میں ۔کاغذات  چیک کرنے کا رواج اس علاقے میں نہیں ہے بس شناختی کارڈ چیک ہوتا ہے۔اس چیک پوسٹ سے پہلے ہی ہنگول نیشنل پارک کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔
یہاں سے 6 کلو میٹر پر ایک جھونپڑا ہوٹل بابا خیر محمدّ کا ہے۔یہاں دوستانہ تعلقات ہیں۔اس کا بیٹا پیر بخش اب ہوٹل چلاتا ہے۔مقامی لوگ ہی یہاں آتے ہیں اس کی ہیئیت ایسی نہیں کہ کوئی گاڑی رکے۔چائے،پٹرول ڈیزل،گٹکا،راشن وغیرہ سے اس کی کچھ آمدنی ہو جاتی ہے۔دیہات سے آنے والے موٹر سائیکل سوار اپنی بائیکس یہاں کھڑی کر کے بس سے آگے چلے جاتے ہیں۔ واپسی پر پٹرول ڈال کر چائے پی کر روانہ ہوجاتے ہیں۔ہم یہاں دوپہر میں پہنچے تھے۔پیر بخش نے آلو پکائے ہوئے تھے۔تازہ پراٹھے بنا کر  ہمیں لنچ کرایا۔کچھ دیر آرام کیا۔4 بجے وہاں سے نکلے۔44 کلو میٹر چل کر ہنگول ندی پار کی۔ہوٹل پر بس منہ ہاتھ دھونے کو رکے اور پھر آگے چل دئے۔یہ ہوٹل ٹوور آپریٹروں کا  پسندیدہ ہوٹل ہے۔ کیونکہ یہاں سے ایک راستہ نانی ہنگلاج کو جاتا ہے۔رات کو کراچی سے چل کر ٹوور آپریٹر اس ہوٹل پر گاڑی روکتے ہیں،ٹورسٹس کو سامنےکی پہاڑیاں چڑھنےکو کہتے ہیں اتنے میں ناشتہ تیار کراتے ہیں پھر ناشتہ کرا کر نانی ہنگلاج لے جاتے ہیں۔ تین چار گھنٹے وہاں لگتے ہیں ۔اتنے میں دوپہر کا کھانا کھانے کا وقت ہو جاتا ہے۔واپس اسی ہوٹل پر کھانا کھلا کر آگے کنڈ ملیر دکھا کر واپس لے جاتے ہیں۔آگے کنڈ ملیر اور فشریز پار کرکے ہم ایک ایسے سنگ میل پر رکے جو ہمارا پسندیدہ شکاری پوائنٹ ہے۔یہاں لکھا ہے کراچی 249  کلو میٹر اور ہوڑ ماڑہ 95 کلو میٹر۔پہاڑی کی وجہ سے ہوا کم تھی  کچھ دیر رکے۔میں پلیا   پربیٹھے بیٹھے نمعلوم کن خیالوں میں کھو گیا۔یہاں کبھی میں اپنے والد کو لایا تھا۔بیگم کے ساتھ بھی  یہاں آنا رہا۔جگہ دیکھ کر سہانی یادوں میں گم ہو گیا۔اب نہ والد رہے نہ بیگم رہیں۔ان مقامات کو جہاں اکٹھے سیر تفریح کی  دیکھ کر دل کچھ افسردہ سا ہو جاتا ہے۔غلام نبی نے مجھے ان خیالات سے نکالا کہ بھائی ابھی 95 کلو میٹر جانا ہے۔
اب ہم یہاں سے بلوچستان کوسٹل ہائی وے کے اس حصے میں داخل ہوئے جو  طلسماتی دنیا معلوم ہوتا ہے۔بزی پاس کا علاقہ انتہائی خوبصورت ہے۔راستے کے پیچ و خم،اتار چڑھا ؤ،پہاڑوں کے اندر سے سمندر کے نظارے، قدرتی طور پر بنے ہوئے مٹی کے  پہاڑوں کی اشکال ،انسان کو کسی طلسماتی دنیا میں لے جاتی ہیں۔ایک مشہورِزمانہ  مٹی کی مورت کا نام پرنسس آف ہوپ ہے۔ جو ایک عالم میں مشہور ہے۔یہاں سے گزرنے والا اس کی بناوٹ سے محظوظ ہوتا ہے۔ایک جگہ لگتا ہے  ابولہول یا سفنکس بنا ہوا ہے۔ کہیں ایسا لگتا ہے کسی قلعے کی دیوار ہے۔کہیں مندر معلوم ہوتا ہے۔پورا بزی پاس ایسی اشکال سے بھرا ہوا ہے۔ شام کا وقت تھا،اس وقت  بزی پاس کی خوبصورتی پر مزید نکھار آجاتا ہے۔جگہ جگہ ہنگول نیشنل پارک کے بورڈ لگے ہیں کہ جانوروں کو مارنا منع ہے۔کہیں لکھا ہے یہ چیتے کا زون ہے۔کہیں لکھا ہے یہ آئی بیک زون ہے۔ بچپن کی کہانیوں میں جو پرستان کا ذکر ہے وہ یہاں آکر محسوس ہوتا ہے۔ بزی پاس ختم ہوتا ہے تو چھوٹی پہاڑیوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔سڑک لگتا ہے میلوں تک دونوں جانب پہاڑیوں کے درمیانی نالے میں  بنائی گئی ہے اور بارش میں اس پر پانی آجاتا ہوگا۔اس سڑک پر چلتے چلتے اچانک پٹرول ریزرو پر لگ گیا۔بڑی تشویشناک حیرت ہوئی کہ یہ کیا ہوا۔میری بائیک تو 450 کلو میٹر پر ریزرو پر لگتی ہے۔یہ 332 پر کیسے ریزرو لگ گیا۔ابھی ہوڑماڑہ دور تھا۔اور بائیک میں صرف 2 لٹر  پٹرول باقی رہ گیا   تھا۔15 کلو میٹرکے  بعد ایک اجاڑ سا  پٹرول پمپ نظر آیا جس پر کوئی آدمی نظر نہیں آیا۔دو چار ہارن دینے پر ایک ڈاکو صورت آدمی نظر آیا۔اس نے آتے ہی ایک چھوٹے سے جنریٹر کو آٹھ دس ککس ماریں اور یہ جنریٹر اپنی بھیانک آواز سے نہ صرف چل پڑا بلکہ واقعی چل پڑا۔یہ جدھر کو چل رہا تھا اس ڈاکو شکل آدمی جو کہیں سے آدمی تو نہیں لگ رہا تھا نے ایک پتھر اس طرف رکھ دیا تاکہ یہ ایک جگہ رک جائے۔اب میں نے کہا کہ ٹینک فل کردو۔اس نے اس  ۱12لٹر کی ٹنکی میں  جس میں ڈیڑھ لٹر  پٹرول پہلے سے موجود تھا  13 لٹر پٹرول ڈال دیا۔میں پیسے دے کر بس رسمی سا اہتجاج کر کے  رہ گیا۔ایرانی پٹرول تھا اور کراچی سے  پانچ روپے کم تھا۔اب ہم راستے کا لطف اٹھاتےپہاڑیوں سے میدانی علاقے میں داخل ہو گئے۔ہوڑ ماڑہ نظر آنے لگا تھا۔شام ہو رہی تھی اور شہر کی لائیٹیں  نظر آرہی تھیں۔

ایک جگہ سڑک پر ایک خوبصورت سا مانو منٹ بنا ہوا ہے جہاں یہ سڑک  داِئیں  بائیں دو حصوں میں بٹ جاتی  ہے سامنے سمندر کا شاندار نظارہ  دیکھ کر بے اختیار منہ سے سبحان تیری قدرت  نکلا۔مغرب کے بعد کا وقت تھا،ابھی اندھیرا نہیں ہوا تھا۔اس وقت  سمندرہائی ٹائیڈ پر تھا اور پانی سڑک کو چُھو رہا تھا۔کیا  مسہور  کن سین تھا۔یہ بھی زیرو پوائنٹ کہلاتا ہے۔یہ  ہور ماڑہ کا زیرو پوائنٹ ہے۔یہاں سے ہور ماڑہ بس ایک  آدھ کلومیٹر ہی ہے،سامنے نظر آتا ہے۔یہاں سے دائیں جانب کی سڑک گوادر کی جانب جاتی ہے اور بائیں جانب ہوڑ ماڑہ واقع ہے۔بائیں کونے پر ایک جھونپڑا ہوٹل تھا ۔وہ  جوبیچتے تھے چائے وائے وہ دکان اپنی بڑھا گئے تھے۔ ہوٹل خالی تھا ۔چولہے میں آگ موجود تھی۔ ہم نے اپنی بائیک اس میں رکھی اور بائیک سے منسلک ایک لائیٹ اس کی چھت میں لگا کر روشن کر دی۔ایل ای ڈی لائٹ کی روشنی بہت تیز ہوتی ہے۔ہم نے اپنا سالن پکانا شروع کیا تو فوج کا ایک  نوجوان سپاہی  روشنی دیکھ کر آگیا۔سلام کر کے حال چال پوچھا۔کون ہو ؟ کیوں آئے ہو؟ کہاں سے آئے ہو؟ کراچی سے بائیک پر آنے کا سن کر  واہ واہ کی اور یہ پیشکش کر کے چلا گیا کہ ساتھ ہی چوکی ہے ،کسی مدد کی ضرورت ہو تو  آجانا۔نوجوان فوجی ان دور دراز علاقوں میں اپنے گھروں سے بہت زیادہ فاصلے پر تعینات ہوتے ہیں۔سویلینز سے ان کا واسطہ بس پوچھ گچھ کی حد تک ہی ہوتا ہے۔ میں نے اندازہ لگایا ہے کہ یہ انسانوں سے بات کرنے اور میل جول کے بھوکے ہوتے ہیں۔اچھے اخلاق کے مالک ہوتے ہیں  مدد اور            ہمدردی کا جذبہ رکھتے ہیں۔ہم نے سالن پکایا اور تین پراٹھے جو پیر بخش نے دئیے تھے اس سے  رات کا کھانا کھایا۔ حشرات الارض جو روشنی دیکھ کر اڑ ُ اُڑ کر روشنی پر آرہے تھے اور پیاز بھونتے میں  پتیلی میں گر رہے تھے۔جن کی شکل بھنی پیاز جیسی ہی ہو گئی تھی وہ جتنے نکال سکتے تھے نکال دئے اور کچھ شائد کھا گئے ہونگے۔اتنے مزیدار  آلو زندگی میں کبھی نہیں کھائے ہونگے۔یہ  ذائقہ شائد انہی حشرات کا کمال تھا یا     یہ  کہ بھوک  میں کواڑ پاپڑ۔دوران ِ پکوان    اڑنے والے حشرات کے ساتھ رینگنے والے حشرات بھی چٹائی پر آرہے تھے۔ان میں کالے بھونڈ بھی تھے  اور  قسم قسم کے انجانے مہمان بھی تھے۔ان کو ہٹا ہٹا  کر تھک گئے،تنگ آ کر  جھاڑو لے  کران کے ساتھ آپریشن ردالفساد کر دیا۔کھانے کے بعدچائے بنائی۔اُدھر شائد فوجیوں کی شفٹ تبدیل ہو گئی تھی۔ایک جوان روشنی دیکھ کر آگیا۔رسمی پوچھ گچھ ہوئی،ہم نے چائے کی آفر کی لیکن اس نے بس شکریہ ادا کردیا۔رات چٹائیوں کوصاف کر کے اپنی  چادریں بچھا کر  سو گئے۔ لائٹ بند کرنے کے بعد  حشرات نے آنا بند کر دیا۔ایک آدھ شے سوتے میں جسم پر رینگ گئی تو اسے ہٹا دیا۔
منہ اندھیرے اٹھے۔اٹھ کر میں نے شیو کی۔اتنے میں ہوٹل کا مالک  آگیا۔ہم نے گاڑی باہر نکالی۔اپنی چائے پکائی اور پاپوں سے ناشتہ کیا ۔یہ ترکیب کہ ناشتہ چائے پاپوں سے کریں گے ،ناکام ہو گئی۔ایک گھنٹے بعد ہی بھوک لگ گئی۔مانومنٹ اتنا خوبصورت تھا اور ایسی لوکیشن پر تھا کہ ہم نے اس کے پاس کچھ فوٹوگرافی کی۔وہاں سے گاڑی سٹارٹ کی اور چوکی پر سلام دعا کی۔گاڑی بند ہو گئی۔یہ گاڑی سیلف سٹارٹ ہے۔بیٹری بیٹھ گئی تو ککیں ماریں سب کچھ کر لیا۔ایک اس میں خفیہ ڈیوائس لگی ہے جس سے انجان آدمی اسے سٹارٹ نہیں کر سکتا،اس کے سارے تار کاٹے۔پھر بھی سٹارٹ نہیں ہوئی۔ایک دیہاتی سا بندہ آیا اور  کہنے لگا پٹرول کھولا  ہے۔اس پر غلام نبی بولا کہ رات کو میں نے بند کیا تھا۔ہت تیرے کی۔ میں کبھی پٹرول نہیں بند کرتا  اس لئے مجھے اس کا خیال ہی نہیں آیا۔پٹرول کھولا اور گاڑی اسٹارٹ۔خوب ایک دوسرے کا مذاق اڑایا اور دیہاتی کو داد دی۔ 
ہم یہاں سے ہوڑمارہ کی جانب گئے۔چھوٹا سا شہر ہے اسے دیکھا،  ایک دکان سے پٹرول لیااور نیوی کے علاقے میں گئے۔اندر جانے کی بہت ضد کی لیکن گیٹ پر موجود فوجیوں کو اپنے افسران کا حکم ماننا ہوتا ہے انہیں ٹورسٹوں سے کیا دلچسپی۔اوپر پہاڑ پر نہ جا سکے۔ایک لمبا چکر کاٹ کر دوسرے راستے سے  واپس  زیرو پر آئے۔وہاں سے آگے ممتاز ہوٹل ہے کوئی 15 کلو میٹر آگے۔وہاں سے پینے کے پانی کی بوتلیں اور برف لی۔کولر بھرا  اور طاق بندر کے لئے روانہ ہو گئے۔یہاں سے 4 کلو میٹر  پر  طاق بندر کا موڑ ہے۔یہ سارا  راستہ سمندر کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔اس کے بعد مسلسل طاق بندر اور کلاتو بندر تک سمندر سڑک کے ساتھ ساتھ رہتا ہے۔ہم نے پہلے طاق بندر دیکھا اس میں جاتے ہوئے سیدھے ہاتھ پر ماہی گیروں کی بستی ہے او ربائیں پر سمندر میں     کشتیاں کھڑی ہیں۔ ہمارے وہاں پہنچنے پر پتہ چلا کہ خراب موسم اور جھکڑوں کی وجہ سے کوئی کشتی پانی میں نہیں گئی۔وہاں سے کلاتو بندر گئے  ۔ پہلے بستی پھر اس کے ساتھ کشتیاں کھڑی تھیں۔ یہ دونوں ماہی گیری کی چھوٹی چھوٹی بستیاں ہیں۔کچھ کھجوروں کے درخت بھی ان بستیوں میں لگے ہوئے تھے۔ کلاتو بندر کے قریب ایک اچھا باغ  آم اور کھجوروں کا تھا جس میں پکنک کی جا سکتی ہے۔ ایک سڑک کلاتو بندر سے آگے دائیں جانب جاتی ہے جو بہت لمبا چکر کاٹ کر واپس کوسٹل ہائی وے پر نکلتی ہے۔ہم نے اس کو کچا ہونے کی بنا  پر چھوڑ دیا 
اور واپس  طاق بندر موڑ پر آگئے یہ  20 کلو میٹر کا  چکر تھا۔ 


طاق بندر موڑ پر ایک پٹرول پمپ،ایک ہوٹل اور کسی کنسٹرکشن کمپنی کا سائیٹ آفس ہے۔ غلام نبی نے ہوٹل سے پوچھا کہ دودھ کون سا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ڈبے کا ہے۔غلام نبی نے کہا کہ دودھ کی چائے ہوتی تو پیتے۔اس پر اس نے کہا کہ اس علاقے میں پانی نہیں ملتا تم دودھ کی بات کرتے ہو۔آگے تمہیں کہیں بھی ڈبے کے علاوہ کوئی دودھ نہیں ملے گا۔یہ سن کر ہم نے وہی چائے پی لی۔اب یہاں سے سخت گرمی اور تیز گرم نم ہوا میں پسنی کا رخ کیا۔ طاق موڑ سے 90 کلو میٹر تک ہمیں کوئی سایہ نہیں ملا۔ جھلسی ہوئی زمین،چھوٹی چھوٹی جلی ہوئی جھاڑیاں ٹیلے اور چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں، سارا راستہ لگ بھگ ایک جیسا ہی ہے۔ اللہ اللہ کر کے سڑک کے دائیں جانب ایک ہوٹل آیا۔ہم جاکر اس میں لیٹ گئے۔منہ دھونے کا پانی تک نہیں تھا۔اپنی بوتل کے پانی سے منہ دھویا تو منہ جل گیا۔ شکر ہے کہ ہمارے پاس پینے کے پانی کا  کولر تھا۔جس سے ہم دن میں دو تین بار کبھی ٹینک اور کبھی او آر آیس بنا کر پی لیتے تھے۔ یہاں ہم نے  چائے   کے ساتھ تندور کی گرم روٹی کھا کر گویا ناشتے کو ریفریش کیا۔اس علاقے کا نام کلمت تھا۔کلمتی فرقہ یا کلمتی برادری بلوچستان کے اسی علاقے سے تعلق رکھتی ہے۔بلاول شاہ نورانی کے خلیفہ نواز بھی اسی قبیلے کے ہیں۔ابھی پسنی مزید 70 کلومیٹر تھا۔یہاں سے جو چلے تو ایک  بجے 

پسنی پہنچ گئے۔
پسنی پہنچ کر  اپنے دوست جمعہ خان کو فون کیا۔اس نے کہا کہ سیدھے آجا ؤ میں مل جا ؤں گا۔ ہم شہر میں ویگن کےاڈے تک پہنچ گئے۔یہیں ایک فٹبال گرا ؤنڈ تھا ۔ایک دکاندار سے فون پر جمعہ خان کی بات کرائی اس نے ہمیں صحیح راستہ بتا دیا۔ سارا پسنی پار کر کے ساحل کے نزدیک اس کا گھر ہے۔ہمارا خیال تھا کہ وہ گھر کے باہر انتظار کر رہا ہوگا۔بالکل گھر تک پہنچ گئے۔ایک بلوچ خاتون آرہی تھی بکریاں لے کر۔انجان خواتیں سے بات کرنا بلوچ روایات کے انتہائی خلاف ہے۔میں نے ہمت کر کے پوچھ لیا کہ جمعہ خان کا گھر کونسا ہے۔اس نے سر ہلایا اور پھاٹک نما دروازہ کھول کر پہلے بکریاں داخل کیں اور پھر ہمیں اندر آنے کا اشارہ کیا۔ہمیں حیرانی تھی کہ یہ بغیر کسی مرد سے پوچھے ہمیں کیسے اندر لے جا رہی ہے۔اندر گئے تو دالان میں ایک بستر پر جمعہ خان چکن گونیا کے بخار میں پڑے تھے۔اپنی بیگم،بہن بیٹیوں سے ملوایا سب نے آکر ہاتھ ملایا۔یہ بلوچوں کا دستور ہے کہ مہمان جو گھر میں آئے اس سے سب ہاتھ ملاتے ہیں۔کچھ مہمان صرف ہوٹل تک محدود ہوتے ہیں کچھ اوطاق تک اور خاص مہمان گھر کے اندر تک۔جمعہ خان سے کوئی خاص پرانی  دوستی تو نہیں تھی۔جب مجھے کچھ کرم فرما جزیرہ ہفت تلار لے کر گئے تھے تو کشتی کے لمبے سفر میں جمعہ خان ماہی گیر میرے نزدیک بیٹھا تھا۔ اس سے گپ شپ لگتی رہی۔جب جزیرے پر میں نے کیمپ لگایا تو وہ بھی میرے پاس آبیٹھا۔زیادہ تر لوگ تو جزیرے کی پہاڑی سر کرنے چلے گئے۔ماہی گیر  یا کشتی بان اپنی لانچ میں بیٹھے رہے۔ ہم دونوں باتیں کرتے رہے اور ٹیپ پر پرانے گانے سنتے رہے۔ ایک دوسرےسے اچھی طرح تعارف ہوااور یہ تعارف دوستی میں تبدیل ہو گیا۔اس کے بعد فون پر رابطہ رہا۔اکثر کہتا تھا کہ کبھی گھر آؤ۔بچوں کو لاؤ۔اب جو میں گیا تو واقعی دوستی کا حق ادا کر دیا۔گرمی تھی پہلے شربت پلایا۔پھر اچھے باتھ روم میں اچھے تولئے اور صابن سے  نہانے کا موقع دیا۔اس کے بعد بہترین چاول چکن قورمہ اور بلوچی  روٹیوں سے خاطر مدارت کی۔کھجوریں اور کولڈ ڈرنک بھی پیش کیں۔ایک عام سے ماہی گیر سے اتنی خاطر مدارات کی توقع نہیں تھی لیکن واقعی  دل کی سخاوت کوئی امیری غریبی نہیں دیکھتی۔ہمیں چار بجے آگے کے لئے نکلنا تھااور پسنی کی ماہی بندر  بھی دیکھنی تھی۔چار بجے پھر ایک بار پرتکلف چائے لے آئے جس میں بسکٹ بھی تھے۔ ان کے فوٹو لئے اس
کے بعد اجازت لی۔
  
پسنی کی فشریز بندرگاہ  آئے ،یہ ہمارے کراچی سے زیادہ بڑی جیٹی پر واقع ہے۔کشتیاں آجا رہی تھیں۔کچھ سامان لوڈ کر رہی تھیں۔ٹرالیوں پر سامان کا آنا جانا،لوگوں کا رش،ماہی گیروں کی مصروفیات غرض ایک پر رونق جگہ تھی۔مچھلی صرف اس وقت بانگڑا  ہی میسر تھی۔ ریٹ معلوم کئے تو دکاندار نے کہا اگر پکانے کو چاہئیے تو جتنی چاہو مفت لے جاؤ۔یہ جلد خراب ہونے والی مچھلی ہے اور ہمارا سفر ابھی بہت لمبا تھا اس لئے نہیں لی۔فشریز  سے کولر  برف  سے بھر لیا  جس کے پیسے اس نے نہیں لئے۔فشریز کے فوٹو لئے اور وہاں سے نکل کر ہائی وے کی راہ لی۔
شام ہو رہی تھی۔پسنی سے گوادر پسنی موڑ پر آئے وہاں سے گوادر کے زیرو پوائنٹ پر پہنچے تو سورج ڈھل چکا تھا ۔اس اسٹاپ کا نام نربٹ ہے۔یہاں سے تین سڑکیں نکلتی ہیں۔ ایک تربت کو جاتی ہے،ایک گوادر کو جاتی ہے اور ایک کراچی کو جاتی ہے۔آج ہم ہوڑ ماڑہ سے پسنی اور پھر نربٹ تک 300 کلومیٹر کا سفر طے کر چکے تھے ۔نربٹ پر فقیر محمد کے  کارواٹ  ہوٹل  پر ٹہرے۔ عمارت کے باہر چبوترے پر قالین بچھے تھے ان پر تکیے ڈال کر لیٹ گئے۔ رات کو ٹھنڈی ہو ا چل رہی تھی ،اکّا دکّا ہی مسافر نظر آرہا تھا۔ایک آدھ گاڑی آکر رک جاتی اور  ڈرائیور چائے پی کر روانہ ہو جاتے۔ایسے میں میرا ٹیپ ریکارڈ پرانے انڈین گانے بجا رہا تھا اس کی آواز اس سناٹے میں دور دور  تک گونج رہی تھی۔  تمام سامعین جو بس چند ہی تھے اس پر مست ہو رہے تھے۔ کھانے کا پوچھا تو کہا کہ ایرانی مٹر اور ایرانی  لوبیا  ہے جو آرڈر پر تیار ہوگا۔ ہم نے ایرانی مٹر پکوائے جوگرم گرم روٹیوں سے کھانے کا مزہ آگیا۔ سو روپے پلیٹ اور گریبی بھی دستیاب تھی۔ رات یہاں گزاری۔ یہاں سے بغیر ناشتے کے آگے گوادر کی جانب روانہ ہو گئے۔راستے میں ایک سڑک جیوانی جانے کی ملی۔ہم سیدھے گوادر کی جانب چلے۔41 کلو میٹر پر ہمیں وسیع عریض گوادر کا پہلا ہوٹل ملا۔یہاں ایک چھوٹا سا بازار تھا۔ناشتہ کیا۔ بائیک کا ایک پائیدان ٹوٹ گیا تھا اسے ویلڈ کرایا لیکن یہ دوبارہ فٹ نہیں ہوا۔اس کے بغیر ہی بیچارہ غلام نبی ایک ٹھنٹھ پر پیر رکھ کر گزارہ چلاتا رہا۔


اب ہم گوادر شہر میں داخل ہو چکے تھے ۔دائیں جانب ائیرپورٹ اور باِئیں جانب  شہر تھا۔ایک آٹوز کی دکان سے  بائیک کا
 فٹ ریسٹ پتہ کیا نہیں ملا۔ آگے گئے۔ بازار سے گزر کر پہلے فشریز دیکھی۔جیٹی پر بڑے ہیوی ٹرالر لگے ہوئے تھے۔ایسے ٹرالر کبھی کراچی میں بھی نہیں دیکھے۔مچھلی بہت مہنگی تھی۔سارم جیسی تھرڈ کلاس مچھلی اس گرمی میں 600 روپے کلو بک رہی تھی جسے کراچی میں200روپے بھی کوئی  نہیں لے گا۔فشریز کراچی فشریز سے بڑی تھی۔خوب مصروف تھی۔مچھلی والے برف والے سامان والے،جالوں والے ،لانچوں میں راشن بھرنے والے سب  اپنا کام کر رہے تھے۔ اس جیٹی  پر  روزگار کا فروغ دیکھ کر  بڑی  خوشی ہوئی ۔اس کی اہمیت اس کی کاروباری سرگرمیاں  دیکھ کر پتہ چلی۔مچھلی کے نیلام کا حال  اچھا وسیع ہے۔اسی میں نیلام کے بعد مچھلی  فروخت کرنے  کی دکانیں چبوتروں کی شکل میں موجود ہیں۔دھوپ تھی اپنی بائیک کو ہال کے اندر ہی لے گیا تھا۔اندر اور بائیکس بھی کھڑی تھیں۔اس انٹر نیٹ اور گوگل میپ کے دور میں بھی ہمارے اہلکار جہالت سے نہیں نکل سکے۔گوادر  پورٹ کے فوٹو ساری دنیامیں دستیاب ہیں ۔ اخبارات میں بھی ایک دنیا گوادر پورٹ کی کرینوں کے فوٹوز سے  اسے پہچانتی ہے۔لیکن ہمیں کیمرہ نکالتے ہی پکڑلیا۔اور سلطان راہی کی طرح ای شادی نئیں ہو سکدی کہہ کر پورٹ کے فوٹو لینے سے منع کر دیا۔کاش اگر وقت ہوتا تو میں ایسا پھڈا پاتا کہ وہ یاد رکھتا لیکن جواب جاہلاں خاموشی باشد۔
  
بازار اور فشریز کے بعد  کوہ باطل کا راستہ پوچھا۔اس پر پی سی ہوٹل اور ایک آدھ اور ہوٹل واقع ہے۔جنہوں نے فوٹو گرافی کرنے کے  اصل پوائینٹ گھیرے ہوئے ہیں۔ پورا کوہ باطل سرکاری عمارات کے قبضے میں ہے۔ جگہ جگہ فرعونیت کے مظاہرے ہیں۔اس پر ہیمر ہیڈ نام کی ایک جگہ ہے۔ اسے دیکھنے کے لئے ایک بہت لمبا کچا راستہ اختیار کیا۔جس پر چلتے ہی گئے لیکن کہیں بھی  ہیمر ہیڈ سے سمندر کا نظارہ نہیں ملا۔واپسی میں ایک پکی سڑک نظر آئی۔ اس پرکچے راستےسے بڑی مشکل سے  بائیک ڈال کر اترے۔بہت دور چل کر جب ایک جگہ سے اترائی کا راستہ نزدیک ہی تھا،ایک اہلکار نے ہمیں دور سے ایسے واپس بھیج دیا اشارے سے جیسے کوئی برہمن کسی شودر کو اپنے علاقے سے دھتکار کر بھگا دے۔ ہماری بات تک نہ سنی۔واپس ہوئے اور راستہ بھول گئے۔پھر  دورکہیں سمندر پر نکلے۔پھر اندازے سے سڑک پرنکلے اورایک جگہ پھر پکڑے گئے۔ اب سوال تھا کہ اس حساس علاقے میں کیا کر رہے ہو۔ بس برا ہو اس مشورے کا جس میں مجھے کہا گیا کہ شلوار قمیض پہن کر جانا۔ پتلون میں ہوتا تو اتنے مسئلے پیدا  نہ ہوتے۔ٹورسٹ یا  گھومنے پھرنے کے مؤ قف کو تو  رد کر دیا گیا۔اب پھر وہی کہ یہاں ہونےکا جواز پیش کرو ورنہ گرفتار کر لیں گے۔ ہم تو نکلے ہی آوارہ گردی  کے مشن پر تھے خوب مزے لے رہے تھے۔ جب زیادہ ہی اہلکار پھیلنے لگے تو میں بھی پھیل گیا۔میں نے کہا کہ اپنے کسی افسر کو بلاؤ میں افسر ہوں اور تمہارے جیسے چھوٹے آدمی سے بات نہیں کر سکتا۔انہوں نے اسے اپنی بے عزتی سمجھی اور بات بھی بے عزتی کی تھی خوب جز بز ہوئے۔یہ کہہ کر  میں نے بات چیت کا بائیکا ٹ کر دیا۔بس اتنا کہا کہ تم مجھے سمجھ ہی نہیں سکتے۔اس پر اس نے اپنے کسی افسر کو فون کیا او رمیرے بارے میں جتنی لگائی بجھائی کر سکتا تھا کی۔اس کے بعد فون میرے حوالے کر دیا۔ اب یہاں فرنگی زبان کام آئی۔افسر کوئی نوجوان آدمی تھا۔اس نے ہمیں اپنے دفتر بلایا۔دفتر ایک بنگلے میں قائم تھا ۔اہلکاروں نے راستہ بتایا اور ہم اس بنگلے پر پہنچ گئے ۔میری انگریزی اور کراچی سے بائیک پر آنے سے وہ بہت متاءثر ہوا۔  میرے بیرون ملک ٹوورز کی باتیں سنیں۔ میرے ٹوورز کی داستانیں اور زیب داستاں لوگوں کو سحر میں جکڑ لیتی ہیں۔ چائے پانی کیا۔ اپنے آدمیوں کے رویے کی معذرت کی اور ہمیں جانے کی اجازت دی ۔گوادر کی پہلی دکان سے واپس اسی دکان تک گوادر کے اندر اندر  ہم نے53 کلومیٹر کا سفر کیا۔


گوادر آجکل سی پیکCEPEC کی بنا ء پر بہت مشہور ہے۔کشادہ سڑکیں ہیں خوبصورت شہر ہے۔کنسٹرکشن نظر آتی ہے۔روائتی بازار بھی ہیں۔وسعت بھی ہے۔لیکن بقول دکانداروں کے دھندا نہیں ہے۔بیشمار اسکیموں کے خستہ حال پینا فلکس ان کی بربادی کی داستانیں سنا رہے ہیں۔کئی اسکیموں کے عالیشان لیکن ویران گیٹ بتا رہے ہیں کہ بلڈرز یا ٹاؤن پلانر پیسہ لے کر بھاگ گئے ہیں یا ناکام ہوکر گھر بیٹھ  گئے ہیں۔اچھے اچھے اشتہاروں کی مدد سے ان ٹاؤنز میں لوگوں  کو سرمایہ کاری کرنے کے لئے اکسایا اورپھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔اندسٹریل ایریا کے بس بورڈز لگے ہیں۔اندر کچھ نہیں ہے۔خالی احاطے ہی احاطے ہیں۔بلوچستاں کے ان علاقوں میں بڑی گاڑیاں ہیں۔ہنڈا 125 سے نیچے کی بائیک نہیں اور کاغذات کا کوئی رواج  نہیں۔لمبے لمبے فاصلے ہیں چن چی رکشہ موجود ہیں۔ہنڈا کمپنی اور سوزوکی کمپنی کا شو روم موجود ہے۔سوزوکی شو روم میں تھری ایس کے باوجود ہماری گاڑی کا فٹ ریسٹ موجود نہیں تھا۔پٹرول جو 60 روپے لٹر تھا اس سے ٹینک فل کیا۔
گوادر کو بائی بائی کیا ۔اب رخ جیوانی کی جانب تھا۔گوادر سے بس تین کلومیٹر پر جیوانی موڑ ہے۔ گرمی شدید تھی،گرم اور نم ہواؤں کی مزاحمت نے چکرا کر رکھ دیا تھا۔ کراچی سے ہی راستے میں رک رک کر ایک ٹینک یا او آر ایس کے ساشے سے دو گلاس میں ٹھنڈا شربت بناتے رہے اور پیتے رہے۔کولر میں جہاں سےبرف ملتی وہیں سے لے لیتے۔گوادر سے بھی ایک برف ڈپو سے بغیر پیسوں کے کولر  فل کر لیا تھا۔جیوانی موڑ سےکوئی پانچ کلومیٹر پر ایک ویران ہاؤسنگ سوسائٹی کے گیٹ پر بائیک روکی۔گیٹ میں ایک   بہت اونچی چھت کا قلعہ نما کمرہ تھا ۔ہو دار تھا سب طرف سے کھڑکیوں سے ہو آرہی تھی ، کچھ بڑے کارٹن کے گتے بھی لیٹنے کے لئے موجود تھے۔بائیک سایہ میں لگائی، سامان نکال کر رکھا اور کھانا پکانے کی تیاری کی۔ہوا زیادہ تھی چولہا نہیں جل رہا تھا۔ساتھ میں ویران دفتر تھا ،اس میں سلنڈر پر کھانا پکایا۔کھا کر چار بجے تک آرام کیا۔ جا کمرے میں کھانا پکایا اس کے ساتھ ایک کمرے میں بہت سارا تعمیراتی سامان ،سفید سیمنٹ  کی سو سے زائد بوریاں، شیشہ،بہت سے کارٹن ٹائلز کے اور بھی بہت کچھ تھا۔لاکھوں کا مال لاوارث پڑا تھا۔ آفس کے شیشے ٹوٹے ہوئے تھے۔ایک جگہ  کچھ راشن چینی پتی  گھی وغیرہ بھی تھا۔ بس پانی کہیں نہیں تھا۔ ہماری کوشش رہی کہ صبح سویرے سے 12 بجے تک اور پھر 4 بجے سے 8 بجے تک بائیکنگ کی جائے اور دن میں چار گھنٹے آرام کیا جائے۔گوادر سے 86 کلو میٹر پر جیوانی واقع ہے۔یہاں سے 4 بجے نکلے۔

ہم شام ساڑھے پانچ بجے جیوانی کی چیک پوسٹ پر  پہنچے۔ وہاں ایک کوسٹ گارڈ سپاہی  علی محمّدنے غلام نبی کو پہچان لیا۔وہ غلام نبی کے کزن  میوہ  کا بیٹا تھا۔ اس نے چوکی پر چائے پلائی  ۔جیوانی شہر میں داخل ہوئے۔بائیک کا آئل بدلنے کے کے لئے 1000 کلو میٹر ہو چکے تھے۔ جیوانی کے بازار میں ایک اچھی آٹوز کی دکان دیکھ کر رکے اس سے آئل کا پیک ڈبہ لیا اور ایک فٹ ریسٹ لیا۔ساتھ ہی مکینک کی دکان تھی ،اسے کہا کہ آئل بدل دو،فٹ ریسٹ لگا دو۔ بائیک چیک کر لو چین ڈھیلی نہ ہو گئی ہو۔ہم کراچی سے آرہے ہیں اور ابھی بہت دور جانا ہے۔ کراچی کا نام سن کر دکاندار جو دو بھائی تھے متوجہ ہوئے۔اندر بٹھایا،چائے منگائی،باتیں کیں اور ہمیں رات اپنے گھر رکنے کی دعوت دے دی جو ہم نے کچھ تردّد کے بعد قبول کر لی۔ ہمارے ہاں کرتے ہی ان میں سے ایک فیض نام کے لڑکے نے کہا کہ گھر چلو۔سامان رکھو  اور جلدی سے گنز دیکھنے چلتے ہیں۔ ہم اس کے پیچھے اپنی بائیک پر اس کے گھر تک آگئے۔ اس نے ہماری بائیک سامان سمیت حویلی کے اندر رکھی اور کار لے کر آگیا۔ہمیں بٹھا کر گنز کی جانب چلا۔ہم سمجھے کہ فوجیوں نے توپیں لگا رکھی ہونگی۔ کوئی  آرمی کیمپ ہوگا۔وہ ویران راستے پر چلتا ہی گیا۔میں تو سمجھا کہ ہم کسی لبریشن آدمی کے کارندے  کے ہاتھوں اغوا ہو گئے۔ بس کچھ تسلی یہ تھی کہ وہ چوکی پر علی محمّدسے ملتا ہوا آیا اور علی محمّدنے کہا تھا کہ یہ میرا چاچا ہے۔اس کے علاوہ وہ ایک دکان پر رکا کچھ بات چیت کی۔ بہت سوشل لڑکا تھا۔سب اسے جانتے تھے۔کئی لوگوں سے ملتا ہوا چلا۔سنسان پہاڑیوں کے درمیان سے چلا۔15 کلو میٹر چلنے کے بعد ایک بستی آئی اس کی پتلی اور کچی گلیوں میں کار چلاتا رہا۔ اب تو مجھے یقین ہو گیا تھا کہ ہم اغوا ہو رہے ہیں۔ایک جگہ کار روکی اور اتر کر ایک پتلی گلی میں داخل ہو گئے۔اب تو یقین ہو گیا کہ ہم اغوا ہوچکے ہیں۔نہ یہاں فوجی نہ یہاں روک ٹوک نہ کوئی گن نہ چھاؤنی۔ کسی سے فون پر بات بھی کی تھی۔لگتا تھا کہ اب کسی مکان سے اسلحہ بردار نکلیں گے اور ہمیں مکان میں بند کر دیں گے۔

پتلی گلی سے جو نکلےتو اچانک ایک ایسی ہلالی چاند نما خلیج سامنے آگئی جو لاکھوں میں ایک تھی۔ یہ گنز کا ساحل تھا۔میں نےزندگی میں بے حساب ساحل سمندر دیکھے ہیں،میں کہتا ہوں کہ اس سے زیادہ خوبصورت صاف ستھرا اورقدرتی ساحل میں نے زندگی میں کہیں نہیں دیکھا۔ کوئی تھیلی، رسی کا ٹکڑا ،پرانا جال،کپڑے،  ریپر یا لکڑی کے ٹکڑے یا اور کوئی شے اس ساحل پر کوئی آلودگی نہیں پھیلا رہی تھی۔ اتنا صاف  ساحل دیکھ کر مجھے لال قلعہ دہلی کا   گھاس کا میدان یاد آگیا، وہاں بھی ایسی کوئی شے نہ تھی حالانکہ لاکھوں سیاح وہاں آتے ہیں۔ اس صاف ستھرے ساحل پر رنگ برنگی ایک سائز کی سپیڈ بوٹس مزیدچار چاند لگا رہی تھیں۔ہمارے ساحلوں پر دو طرح کی کشتیاں ہوتی ہیں۔ ہوڑے یعنی لکڑی کی کشتیاں یا ڈونڈے جو لائف بوٹس میں تبدیلیاں کر کے بنائی جاتی ہیں۔ان سب کو لکڑی کے گٹھوں پر کھینچ کر پانی سے خشکی پر لایا جاتا ہے۔لیکن یہاں ان تمام سپید بوٹس کے نیچے یورپ کی طرح پہیوں کا سٹینڈ لگا تھا۔اس خوبصورترین ساحل کو شام کے سہانے موسم میں دیکھنے سے  اس منظر کاحسن دوبالا ہو گیا۔ہلکی ہلکی لہریں خراماں خراماں ہمارے قدموں میں آکر  ہمیں خوش آمدید کہ رہی تھیں۔میں تو کیمرہ نکال کر پاگل ہو گیا کہ کیا کیا سین کیمرے میں محفوظ کروں۔لوگ انتہائی ملنسار تھے۔سب ہی فیض کو جانتے تھے۔بڑے تپاک سے ملے۔ ان چھوٹی بستیوں میں ایک کا مہمان سب کا مہمان ہوتا ہے۔ کوئی کھانے کی تو کوئی کولڈ ڈرنک کی  پیشکش کر رہا تھا۔جس کو پتہ چلا کہ فیض کے مہمان آئے ہوئے ہیں وہی ملنے چلا آیا۔آخر ایک جھگی ہوٹل پر ایک کسی بااثر ٹائپ آدمی نے ہمیں بٹھا ہی لیا۔پوچھا کہ کولڈڈرنک،دودھ والی چائے یا قہوہ کیا پئیں گے۔میں نے قہوے کا کہا تو سب کے لئے قہوہ تیار ہونے لگا ۔مجھے ہر جگہ بس یہ خوف ہوتا ہے کہ سادہ پانی نہ پینا پڑ جائے۔ زمینی ٹینکوں یا  ڈرم کا پانی کہیں بھی پیٹ خراب کر سکتا ہے۔یہاں تو کمال ہی ہو گیا، کراچی سے 900 کلو میٹر دور کچیّ ماہی گیروں کی بستی میں منرل واٹر کی سیل بند ٹھندی بوتلوں سے ہماری خاطر داری کی گئی۔ان سیدھے سادے دیہاتیوں کا خلوص بےلوث ہوتا ہے۔ مہمان ان کے لئے اوتار کا درجہ رکھتا ہے اور ہم شہری ہمارا فٹے منہ کہ ہم اپنے اغوا ء کا خطرہ دل میں لئے رہے۔ہمیں  بستی والوں نے بتایا کہ اب پرانی کشتیاں ہم نے ختم کر دی ہیں اور سب نے سپیڈ بوٹس لے لی ہیں۔ان سے مچھلی کے جال لگاتے ہیں۔بانگڑا اور سؤا مچھلی خاص طور پر پکڑتے ہیں۔سؤا پانچ کلو کا دانہ دو لاکھ کا بھی ہو سکتا ہے اس سے زیادہ کا بھی۔سائز کے حساب سے ریٹ بڑھتا ہے۔ اس علاقے میں سؤا کافی پایا جاتا ہے۔آجکل وہ بانگڑا پکڑ رہے تھے۔ گنز کا ہم نے کبھی نام بھی نہیں سنا تھا،ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ جیوانی سے پہلے ان پہاڑوں کے درمیان ایسی خوبصورت ماہی گیر بستی ہوگی۔قہوہ نوشی کے بعد ہم پیدل پیدل ساحل ساحل فیض کی کار تک پہنچے وہاں سے چلے تو اس نے ہمںو گنز کا چھوٹا سا بازار دکھایا۔اندھیرا ہو چکا تھا۔بستی میں اپنی مدد آپ کے تحت مختلف ذرائع سے  بجلی حاصل کی  جارہی تھی۔ ایک دکان پر گئے تو اس نے مہمانوں کی خاطر شربت انار کی دو کولڈ ڈرنک  بوتلیں دے دیں جو ایرانی تھیں۔

گنز سے واپس آئے تو رات ہو گئی تھی۔انہوں نے اپنی حویلی کی اوطاق میں ہمیں ٹہرایا۔اس کے باہر ایک اوپن ائیر چبوترا تھا جس پر ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا آرہی تھی۔چبوترے پر قالین ڈال کر گدے تکئے چادریں ڈال دی تھیں سولر لائٹ لگا دی تھی۔  سامنے کچھ فاصلے پر باتھ روم تھا۔یہ کوئی سیٹلائٹ ٹاؤن ٹائپ  آبادی تھی جس میں کوئی دو دو یا تین تین ہزار گز کے پلاٹ تھے اور لوگوں کی آر جار کم تھی ۔نزدیک کوئی کچی ابادی تھی جس کی خواتین قریبی مسجد سے پانی  کے برتن سروں پر رکھ کر لے جا رہی تھیں۔ پر تکلف کھانا کھانا کھلایا۔ کولڈ ڈرنک اورچائے پلائی۔ دوسرے بھائی بھی آ ۔گئے تھے یہ ایرانی بلوچ تھے اور دونوں ملکوں کی شہریت رکھتے تھے ۔رات  گئے تک ہم سے باتیں کرتے رہے اس کے بعد پانی کا گیلن، لوٹا گلاس سب رکھ کر ہم سے اجازت لی اور ہم ایک دوسرے سے باتیں کرتے سو گئے دونوں کے دل میں ایک جیسے شبہات تھے۔غلام نبی بھی میری طرح خوفزدہ تھا کہ نمعلوم کہاں لے جارہا ہے۔گاڑی اور سارا سامان تو رکھ ہی لیا ہے اب نمعلوم ہمارے ساتھ کیا ہوگا۔اب ہمیں اپنی اس سوچ پر خود ہی شرم آرہی تھی۔



صبح صبح اٹھ کر میں نے حسب معمول شیو کی ۔تیار ہوا۔تھوڑی دیر میں ناشتہ آگیا۔ناشتے کے بعد ان کے والد سہراب آگئے ان سے گپ شپ کرتے رہے۔بڑی عمر کے آدمی ہیں اور اب کچھ نہیں کرنے کی ان کی عمر نہیں۔میری گاڑی حویلی سے باہر نکالی تو چم چم کر رہی تھی یہ بھی محبت کی انتہا ہے کہ مہمان کی گاڑی کو چمکایا جائے۔ہمیں انہوں نے ریسٹ ہا ؤس کا راستہ بتایا تھا اور  کہا تھا کہ اسے ضرور دیکھیں ۔ اس میں ایک 70 فت لمبی مچھلی کا ڈھانچہ پڑا ہے۔ ہم ان کی دکان کے سامنے سے ہوتے ہوئے بازار کراس کرتے ہوئے جیوانی کے بالکل  آخر میں ایک جگہ پہنچ گئے جہاں چین لگی تھی۔اوپر  کی ایک کھڑکی سے پوچھا گیا کہ کہاں؟ ہم نے بتایا کہ مچھلی دیکھنے۔اس نے کہا کہ ریسٹ ہا ؤس بند ہے۔آگے سیدھے ہاتھ مڑکر ایک آدمی جتنا راستہ دیوار میں ہے اس سے اندر آجانا۔مچھلی وہیں ہے۔ہم گئے تو وہاں نیچے ساحل تھا۔ہم اونچی جگہ پر  تھے۔بتائے ہوئے راستے پرچلےراستہ بند ہونے پر بائیک چھوڑ کر آگے چلے اور ریسٹ ہاؤس میں داخل ہو گئے۔ ایک دالان میں 70 فٹ لمبی مچھلی کا ڈھانچہ ستونوں پر ٹنگا تھا نامکمل تھا اس کے ساتھ ہی ایک اس سے قدرے چھوٹی مچھلی کا ڈھانچہ تھا جو  کافی حد تک پورا تھا۔ دیو ہیکل مچھلی تھی جس کی پسلیوں کی چوڑائی ہتھیلی جتنی تھی اور لمبائی کوئی دس فٹ ہوگی

۔ایک مہُرہ نیچے رکھا تھا جو ساڑھے چار فٹ لمبا تھا۔ستونوں کی وجہ سے کہیں سے بھی اس کا پورانظارہ کیمرے میں نہیں آرہا تھا۔باہر نکلے تو جیوانی کی فشریز کا ساحل سامنے تھا۔یہاں بھی سپید بوٹس تھیں ساتھ میں  دوسری کشتیاں بھی تھیں۔تھوڑ آگے آئے تو ایک برف خانہ نظر  آیا۔غلام نبی کو کولر بھرنے کو بھیجا تو وہ ایک منٹ میں کولر بھر کر آگیا۔ میں نےبرف دیکھی تو عجیب سی تھی۔ایک انچ بائی آدھا انچ اور موٹائی  دو سوت ہوگی ۔ایک جیسی سفید کرسٹلز تھیں۔ہم نے ایک دکان سے منرل واٹر کی دو بوتلیں اس میں ڈال دیں اور کولر فل ہو گیا۔ یہ تو مجھے غلام نبی نے آدھا کولر پینے کے بعد بتایا کہ یہ  گیس کی برف تھی۔اللہ جانے یہ کیا تھی۔ہو سکتا ہے یہ منجمد کاربن ڈائی آکسائد ہو  جو ہم پی گئے۔ اپنے میزبانوں کی دکان شئے آٹوز جیوانی پر گئے ان سے اجازت لی اور ایران بارڈر جانے کے لئے چل پرے۔ ایک بار پھر چوکی پر چائے پی جو 
علی کی وجہ سے تھی۔پہلے تیس کلومیٹر چل کر وہ جگہ آئی جہاں سے جیوانی اور ایران بارڈر کی سڑک الگ الگ ہوتی ہے وہاں سے مزید  اکتیس کلو میٹر چل کر ایران بارڈر آگیا۔ ایک بڑا سا بس اڈہ بنا ہوا ہے ایک دو دفاتر ہیں۔اڈے ہی میں ایک ہوٹل
 اور دو چار دکانیں ہیں۔سامنے بس خار دارتاروں کی نامکمل سی باڑ ہے۔ادھر پاکستانی اور اُدھر ایک بڑے شیڈ پر ایرانی جھنڈا لگا ہوا ہے۔راستہ بہت مصروف ہے گاڑیاں آ جا رہی تھیں 
۔سب کے پاس راہداری تھی۔مقامی لوگ ہی اس بارڈر سے آجا سکتے ہیں۔ہم جیسے پاسپورٹ اور ویزے  کے ساتھ  بھی ادھر سے نہیں گزر سکتے۔ راہداری کے کاغذ پر ہم نے فوٹو لگے دیکھے۔کیمرہ نکالنے کی وہاں ہمیں اجازت نہیں ملی۔افسوس ہوا کہ  ایس  کیا مصیبت آرہی ہے جو فوٹو لینے نہیں دیتے۔


ایران بارڈرپر ہم دن کو گیارہ بجے پہنچے تھے۔پورے راستے وہی گرمی اور تیز جھکڑ  ملے۔اب ہمیں واپس گوادر کے زیرو پوائنٹ یا نروٹ جانا تھا۔یہ وہاں سے 117 کلو میٹر تھا۔ بغیر رکے ہم نے یہ فاصلہ ایک  بجے دوپہر تک طے کر لیا۔بس راستے میں ایک چیک پوسٹ پر تھوڑی سی ایک اہلکار نے اپنی اوقات دکھائی تھی اور سب ٹھیک ٹھاک رہا ۔ نروٹ پر آکر ہم  نے کھانا کھایا اور کچھ دیر  آرام کیا۔ یہاں سے ایک سڑک تربت جاتی ہے جو یہاں سے 110 کلو میٹر ہے۔کبھی ہم سوچیں کہ چلتے ہیں۔کبھی سوچیں کہ نہیں۔ہاں ناں کرتے طے ہو ا کہ چلتے ہیں۔ ہمیں تربت کے کچھ نوجوان مل گئے تھے۔جو انٹر سائنس کا امتحان دے کر فارغ ہوئے تھے ۔ تربت سے گوادر کی سیر کو نکلے تھے یہ کوئی چھ تھے۔ بائیکس پر تھے۔ ان سے سلام دعا ہوئی ان کے فوٹو بنائے۔ گپ شپ لگائی۔ انہوں نے تربت میں  ملنے کی دعوت دی۔ایک دوسرے کے فون نمبر لئے۔کراچی آکر میں نے انہیں ان کے فوٹو فیس بک سے بھیج دئیے تھے اور شکریہ بھی آگیا تھا۔ ہم چار بجے  نروٹ سے نکلے اورتربت کے لئے رونہ ہو گئے۔

ہمیں بتایا گیا تھا کہ تربت تو اس سے بھی گرم ہوگا۔ جوں جوں ہم تربت کی جانب جا رہے تھے  ٹمپریچر بڑھتا ہی جارہا تھا۔شام ہو رہی تھی لیکن بجائے کمی کے گرمی بڑھ رہی تھی۔ایک جگہ ہم پہاڑ کے سائے میں رکے تو ایک مولوی بھی   کولر دیکھ کر رک گیا۔وہ 70سی سی  بائیک پر تھا، حیرت ہوئی کہ اس علاقے میں اور 70۔ پوچھا تو وہ خضدار کا نکلا۔ تربت میں پیش امام تھا۔ اس نے ذرا بھی پٹھے پر ہاتھ نہیں رکھنے دیا۔بات چیت کرنے کی بجائے بس دم دبا کر بھاگ گیا۔اس نے سوچا کہ کہیں یہ میرے گلے نہ پڑ جائیں۔ یہ ایک مشکل راستہ تھا اس لحاظ سے کہ نہ ہوا تھی نہ سایہ تھا، نہ ٹریفک تھا نہ کوئی ہوٹل تھا۔راستے میں دشت  کا کٹ آیا، ادھر نہیں گئے۔لوگ اور فوجی کہتے ہیں کہ سارے لٹیرے اور قاتل وہاں رہتے ہیں اور سڑک پر آکر لوٹ مار کرتے ہیں۔اس سڑک کو سارے وردی والے انتہائی خطرناک بتاتے ہیں۔ایک  چوک آیا۔وہاں فوجیوں نے پہلے ہمیں واپس جاکر کہیں پیچھے سے تربت میں جانے کو کہا۔پھر کہا کہ یہیں سے سیدھے ہاتھ کو چلے جاؤ،پھر کہا کہ نہیں آگے تربت یونیورسٹی بن رہی ہے وہاں سے جاؤ۔ کوئی پندرہ کلومیٹر مزید چل کر ایک پولیس چوکی آئی۔ یہ ایک بڑی چوکی تھی جس میں سایہ دار جگہ کے نیچے چٹائیاں پڑی تھیں اور کولر میں ٹھنڈا پانی بھی تھا۔پانی پیا اور لیٹ گئے ۔ پہلے تو کھڑے ہوئے پولیس والوں نے ہمیں ڈرایا دھمکایا  کہ واپس چلے جاؤ،تربت بڑی خطرناک جگہ ہے۔ پھر جو ساتھ والی بلڈنگ سے نکل نکل کر ہم عجوبوں کی شکل دیکھے آرہے تھے کہ یہ کراچی سے بائیک پر آئے ہیں انہوں نے ڈرایا دھمکایا۔ ہم بھلا ان گیدڑ بھپکیوں میں آنے والے کہاں تھے۔ایک نے تو جب کہا کہ آپ سمجھدار  آدمی ہیں پھر یہاں آنے کی غلطی کیوں کی تو میں نے کہا کہ تم بھی تو سمجھدار ہو تم کیوں یہاں آئے  ہو۔کہنے لگا میری تو ڈیوٹی ہے میں نے کہا کہ میری بھی ڈیوٹی  ہے تم اسے نہیں سمجھ سکتے۔ ایک نے کہاکہ ایس پی صاحب نے کہا ہے جو نیا آدمی آئے اس کو میرے پاس لے آؤ۔ غرض ہم ان تمام باتوں کا لطف لے رہے تھے۔ہمیں تھوڑا آرام کرنا تھا بہت دیر بعد سایہ دار جگہ ملی تھی۔جب سب کے بھاشن ختم ہو گئے تو ایک نے راستہ بتلایا۔ ہمیں اندازہ ہوا کہ پولیس لیویز اور دیگر فورسز میں شرپسندوں کا خوف بیٹھا ہوا ہے ۔اس لئے کہ وہ انہی کو نشانہ بناتے ہیں۔اب ہم ایک موڑ سے سیدھے ہاتھ کو چلے  پھر مزید سیدھے ہاتھ کو اس طرح کہ ہم میں ہائی وے کے متوازی واپس چل رہے تھے۔ بس اڈہ آیا،مارکیٹ پوچھتے چلتے گئے۔
آبادی میں  ایک جگہ چائے پی  اب رات گزارنے کا مسئلہ تھا۔غلام نبی نے ایک مسجد میں  رات گزارنے کی اجازت چاہی لیکن اجازت نہ ملی ۔ایک ہوٹل گئے تو پانچ ہزار روپے میں ڈبل بیڈ میسر تھا۔میں نے کہا مہینے کے لئے نہیں ایک دن کو چاہئیے۔ اس نے کہا کہ ایک دن کا ہی کہ رہا ہوں۔ میں نے کہا کہ ڈھائی سو لے لو،کمبخت نہیں مانا۔ایک اور مسجد میں گئے تو ایک عام سا پٹھان مل گیا۔جس کا مسجد سے تعلق نہ تھا۔ اس نے اللہ واسطے ہمیں اپنے ڈیرے پر رکنے کی دعوت دے دی۔ نام اس کا بلال تھا اور صوابی کا رہنے والا تھا۔ مستری تھا اور یہاں کچھ سال سے ٹھیکیداری کر رہا ہے۔اپنے ڈیرے پر لایا۔ سارا سامان بائیک سے اتروا کر اپنے ساتھیوں سے ڈیرے پر رکھوایا ،بائیک ایک اور ڈیرے پر کھڑی کرائی۔۔  اپنے ڈیرے پر بٹھا کر کہا کہ یہ باتھ روم کی چابی ہے نہاؤ منہ ہاتھ دھوؤ اور ٹھنڈے ہو جاؤ خود کہیں چلا گیا۔ان کے ڈیرے پر دو تین قیمتی موبائل بھی چارج پر لگے ہوئے تھے۔اور پورا سامان ایسے ہی رکھا تھا۔ کیا اعتماد تھا ان کا ہم نئے لوگوں پر ۔ ہم نے کہا کہ ہمیں کھانا پکانا ہے۔کہنے لگا ہمارے ساتھ کھانا۔تھوڑی دیر گپ شپ کی۔کچھ اور لوگ بھی آگئے۔ان میں وہ ٹھیکیدار بھی تھا جس کے کچھ آدمی تربت میں کام کرتے ہوئے مارے گئے تھے۔تھوڑی دیر میں کھانا آگیا۔چند لوگ اور بھی آگئے جو ان کے ساتھ ہی کھانے میں شامل ہوتے ہیں لیکن رہتے دوسرے ڈیرے میں ہیں۔ہماری خاطر داری کی وجہ سے کافی کچھ لے آئے تھے دو تین طرح کا سالن تھا چکن تکہ تھا دہی تھی۔کھانا کھا کر اوپر چھت پر چلے گئے ۔یہ ایک مارکیٹ کی چھت تھی جو یو شیپ میں بہت بڑی تھی۔یہ کبھی سبزی منڈی تھی جو اب گیراجوں کی شکل  میں تبدیل ہو گئی تھی۔چھت پر ہوا تھی لیکن گرم تھی۔مچھر نہیں تھے۔ رات سو کر گزاری۔
صبح اٹھے،میزبان بازار سے انڈے پراٹھے لے آئے تھے۔چائے ڈیرے پر بنی۔ناشتے پر انہوں نے بہت اصرار کیا کہ کل جمعہ ہے چھٹی ہے۔ رک جاؤ،پورےتربت کی سیر کریں گے لیکن ہم نے اجازت لی ۔ ایک آدمی دوسرے ڈیرے سے پیدل پیدل بائیک لے آیا۔ بلال نے ہمارا کولر برف سے فل کر دیا۔سامان باندھا اور چل پڑے۔یہاں پٹرول کچھ مہنگا تھا۔میں نے لالچ میں آکر یہ  غلطی کی کہ صرف دو لٹر پٹرول اس خیال سے ڈال لیا کہ کچھ موجود ہے  اتنے پٹرول میں بائیک نروٹ تک آسانی سے چلی جائے گی۔تربت کے مین بازار سے ہمیں سیدھا جانا تھا یعنی مین روڈ کے متوازی۔سب نے یہی بتایا تھا کہ یہ سڑک سیدھی کوسٹل ہائی وے پر نکلے گی۔ہم سمجھے کہ تھوڑی دور جاکر ہائی وے سے مل جائے گی لیکن یہ تو اس کے مخالف چلتی گئی۔اس پر نہ کوئی بندہ نہ گاڑی نہ کوئی آبادی نہ کوئی چرواہا۔سڑک اچھی تھی۔چلتے گئے اور دل میں پریشان ہوتے گئے کہ نمعلوم ہم کہاں جارہے ہیں۔کہیں مند کی جانب نہ نکل جائیں۔آخر  کوئی  40 کلو میٹر کے بعدایک آبادی آگئی۔ایک بندے نے بتایا کہ یہ پیدارک نام کی بستی ہے
 ۔اس میں سکول بھی تھا اور بچے بچیاں یونیفارم میں نظر آئے۔ راستہ پوچھا تو بتا یا کہ روڈ پسنی جاتا ہے اور سیدھا وہیں جائے گا۔ بے فکر ہو کر چل دئیے۔بس ایک خوف رہا کہ  نمعلوم کتنا فاصلہ ہے ہمارے پاس پٹرول محدود تھا۔ یہ سڑک پیدارک سے آگے جاکر ایک جگہ ختم ہو گئی۔کچا شروع ہو گیا۔بلوچستان کے کچے پہاڑی راستےپہاڑوں اور ندی نالوں پر چلتے ہیں جن میں مٹی پتھر گریول اور کرش ہوتا ہے۔یہ کچا راستہ ختم ہی نہیں ہو رہا تھا۔35 کلو میٹر کچا چلتے رہے۔ گرمی  اور گرد میں بھوت بنے رہے۔ کہیں سایہ نہیں۔کہیں کوئی جھونپڑی نہیں۔ بہت دیر بعد ایک چٹان کے سائے میں بیٹھ کر کولر سے پانی نکال کر او آر ایس بنا کر پیا۔ کچھ آرام کیا ۔ ایک بانکا چھبیلا نو جوان بائیک پر نظر آیا  جو مٹی میں بہت تیز رفتاری سے گویا اڑتا ہوا آرہا تھا۔ ہمارے پاس رکا۔ایک ہاتھ میں کڑا ، دوسرے ہاتھ میں دھاگوں کا بنا کوئی زیور،کانوں میں ہینڈفری، منہ میں گٹکا، گلے میں تعویذانگلیوں میں گٹکے کی پڑیا۔آکر پیک تھوک کر سلام کیا۔اس سڑک پر پیداراک کے بعد یہ واحد  گاڑی تھی جو ہمیں ملی۔اس سے راستہ پوچھا تو اس نے بتایا کہ بس تھوڑا کچا ہے اور سیدھا پسنی جاتا ہے ، دو ندیاں آئیں گی اس کے بعد پکا ہے۔ان دیہاتیوں کا تھوڑا فاصلہ کہنا کچھ زیادہ ہی کسر نفسی ہوتا ہے۔بہر حال 15 کلومیٹر کے بعد کچا ختم ہوا۔اس کچے پر سڑک کا منصوبہ ہوگا جو رک گیا کیونکہ اس کی ساری پلیاں بنی ہوئی ہیں۔کہیں کہیں تعمیراتی سامان بھی پڑا ہے۔ یہ کچا کوئی 35 کلو میٹر تھا ۔پکیّ سڑک شروع ہوئی۔ کچھ دیر بعد شادی کور ڈیم آگیا۔ وہ دیکھا۔ اس کے بعد ایک کھجور کا باغیچہ آگیا۔اس کا مالک ایک بوڑھا بلوچ احمد نام کا ہے۔کچی کھجوریں لگی ہوئی تھیں۔ڈیزل پمپ  کے ذریعے کنویں سے پانی نکالا جارہا تھا۔ علاقے کا نام زہری کھوہ تھا۔اگر شادی کور ڈیم میں پانی ہوتا تو وہیں سے یہ باغ سیراب ہوتا۔ اس پانی سے  ہم نے خوب منہ ہاتھ دھویا۔موبائل اور دیگر سامان محفوظ کر کے کپڑوں کے اوپر ہی پانی ڈال لیا۔بہت گرمی تھی۔یہاں سے نکل کر چلتے چلتے  آخر کارمزید گیارہ کلو میٹر بعد کوسٹل ہائی وے پر اس جگہ نکلے جہاں لکھا ہے پسنی19 اور کراچی 499 کلومیٹر اس طرح اس شارٹ کٹ سے ہم نے نروٹ  اور پسنی دونوں کو پیچھے چھوڑ دیا اور ہمیں کوئی ۰۰؟۰۰ کلو میٹر کی بچت ہو گئی ۔یہاں کوئی ہوٹل نہیں تھا۔عموما" سڑکوں کے ملاپ پر ہوٹل ہوتے ہیں لیکن یہ بالکل بنجر علاقہ تھا۔انتیس کلومیٹر بعد ایک ہوٹل آیا جس کا نام بلوچ براجیگیbrajeegi  ہوٹل تھا اس میں دو چھپر بنے تھے۔  ۔ایک خواتین کے لئے اور ایک حضرات کے لئے۔اس میں کچھ آرام کیا ۔یہ علاقہ بھی شادی کور میں ہی ہے ۔چائے پی اور پھر نکل پڑے۔ 
یہاں سے 115 کلو میٹر دور الممتاز ہوٹل ہے۔ تمام راستہ چھوٹی چھوٹی    پہاڑیوں یا پہاڑی میدان پر مشتمل ہے۔راستے میں ایک دو جگہ رک کر  دھوپ میں ٹینک یا او آر ایس بنا کر پیا کہ کہیں سایہ نہیں تھا۔تین بجے ہم الممتاز ہوٹل پہنچ گئے۔آج اس پر چند بسیں ابھی تک لگی تھیں تو تازہ روٹی مل گئی ورنہ ان کا  نانبائی تین بجے تک اٹھ جاتا ہے۔بھنڈی کی پلیٹ جس میں دس بھنڈیاں ہونگی چھوٹے  اور درمیانہ سائز  کی ایک سو ستّر  روپے کی تھی۔آئندہ کے لئے توبہ کی اس ہوٹل سے کھانا کھانے کی۔ایک بائیک پر کھانا پکانے   کا سامان بڑی مشکل سے آتا ہے۔پکانے میں وقت بھی لگتا ہے۔لیکن اگر ایک سو سترّ روپے کی بھنڈی ہے تو ساری پریشانی جھیلی جا سکتی ہے۔۔
تربت سے نکلے ہوئےنو گھنٹے ہو چکے تھے جس میں سات گھنٹے سے زیادہ بائکنگ کی تھی اور کچاّ پکّا دشوار گزار گرم راستہ طے کیا تھا۔ کہیں اور سونے سے اچھا  تھا کہ خیر محمد کے جھونپڑے پر پہنچ جا ئیں۔ یہ ابھی مزید پونے دو سو کلو میٹر تھا۔الممتاز سے کولر دھو کر دوبارہ برف اور منرل واٹر ڈال کر بھرا۔
اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے ،پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے۔


شام ہو رہی تھی موسم بھی ہمارے حق میں تھا۔ ہوا پیچھے سے چل رہی تھی جو ہمارے موافق تھی۔ بائیک پر بیٹھے سیلف لگایا اور اس بائیک کو سو کلو میٹر  کی رفتار سے چلانے کی جو حسرت تھی وہ پوری کر لی۔سو کلو میٹر کےبعد  بزی پاس پرسڑک پر دس پندہ منٹ لیٹے۔ ٹینک بنا کر پیا اور نظارے لیتے سمندر دیکھتے ہم ہنگول ندی پہنچ گئے۔ شام کا وقت تھا،سوچا  کہ نانی ہنگلاج کو آج ہی دیکھ لیا جائے۔ورنہ کل واپس 45 کلو میٹر آنا پڑے گا۔ ندی پار کر کے نانی ہنگلاج مندر جانے کے لئے مڑے تو لیویز والوں نے روک لیا۔بقول سلطان راہی ایک بار پھر  اے شادی نئیں ہو سکدی۔مسلمانوں کے اندر جانے پر سخت پابندی ہے۔ سخت آرڈر ہے۔میں نے دیکھا کہ روکنے والا کوئی ساٹھ کے پیٹے میں ہے۔اس عمر میں آنکھوںمیں  موتیا  آہی جاتا ہے۔ میں نے دھوبی پٹرا مارا کہ آپ نے آرڈر پڑھا ہے۔کہنے لگا کہ ہاں پڑھا ہے۔میں نے کہا تو تو اندھا ہے،تیری آنکھوں کو تو آپریشن کی ضرورت ہے۔ تیرے تو آنکھ میں جالا ہے۔تو کیا آرڈر پڑھے گا۔میں ڈاکٹر ہوں مجھے پتہ ہے کہ تیرا علاج کیا ہے۔وہ سارے آرڈر بھول کر اپنے امراض پر آگیا۔ میں نے کہا واپسی پر بیٹھ کر کچہری کریں گے۔ابھی اندھیرا ہونے والا ہے۔اور یہ شادی کی رکاوٹ دور  ہو گئی۔ ایک ولن ابھی اور باقی تھا وہ تھا نانی ماتا کا اندرونی گیٹ۔ یہاں دو تین نوجوان لیویز کے سپاہی بیٹھے تھے اور ایک بار پھر سخت آرڈر آگیا۔اس کا توڑ ایک نوجوان کمزور سے سپاہی کو نشانہ بنا کر کیا۔ صحت مند سےپوچھا کہ یہ ساتھ والا کون ہے۔کہنے لگا سپاہی ہے۔ میں نے کہا یہ دو تین سال میں مر جائے گا۔پوچھا  کیوں۔ میں نے کہا اس لئے کہ اس کی ابھی شادی بھی نہیں ہوئی۔اس نے اپنے آپ کو تباہ کر لیا۔ یہ بری عادتوں کا شکار ہے۔اس کی آنکھیں بتا رہی ہیں کہ یہ بس گیا اور گیا۔اس کا علاج میرے پاس ہے۔اس نے کچھ اپنی عادات کے بارے میں مزاہمت کی تو میں نے ڈانٹ دیا کہ تو جھوٹ بولتا ہے۔ یہاں بھی ولن کو راضی کیا اورمع بائیک اندر چلے گئے۔





اندر جاکر   تو میری زندگی کی ایک حسرت ناتمام کو شانتی مل گئی۔زمانے سے کوشش تھی کہ وائلڈ لائف کا قریب سے فوٹو لوں۔اوّل تو پہاڑی بکرے آئی بیک وغیرہ نظر نہیں آتے۔اگر نظر بھی آجائیں تو رکتے نہیں ،انسان کی خوشبو پا کر دم دبا کر بھاگ جاتے ہیں اور بھاگتے ہووں کو فوکس کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ایک بار پہلے کوشش کی تھی تو کیمرہ اچھی کوالٹی کا نہ تھا۔اس مرتبہ ٹوور سے ایک دن پہلے سونی  ایچ ایس 400 پر کوئی پچاس ہزار خرچ کر دئے تھے۔ٹھیک سے چلانا بھی نہیں جانا تھا کہ لے کر چل دیا۔اب چلتے چلتے اچانک سیدھے ہاتھ کی پہاڑی پر دو دو تین تین آئی بیک کی ٹکڑیاں ایک  کے بعد ایک  بے خوف آتی نظر آئیں۔ میری تو عید ہو گئی۔خوب شاٹس لئے۔کوئی جلدی نہ مجھے تھی نہ آئی بیکس کو۔   ایک فوٹو تو لگتا ہے کہ آئی بیک ہم سے پوچھ رہا ہے کہ بھئی کون ہو ہمارے علاقے میں کیا کر رہے ہو۔آگے نانی ماتا کے مندر میں گئے وہاں کے مہان پجاری سے ملاقات کی۔ ان کا نام مہاراج بھوپال ہے۔ ان سے معلومات کیں۔دو مورتیاں لیٹی ہوئی ہیں ایک  ان میں سے نانی ماتا ہیں دوسری ان کی سہیلی یوگنی ماتا  ہیں دونوں اس مندر میں ہزاروں سال سے آرام کر رہی ہیں۔سب کے شاٹس لے کر واپس ہوئے۔تو دوبارہ آئی بیکس مل گئے۔پھر دل بھر کر شاٹس لئے۔ دو سپاہی بھی وہیں آگئے تھے۔ ہمارے ساتھ واپس  آئے ۔ان کے ساتھ فرصت سے باتیں ہوئیں چائے پی۔کچھ دوائیں حسب ضرورت دونوں کو لکھ کر دیں اور بچھو کاٹے کے فوری آرام کی دوا کی دو شیشیاں ان کو تحفے میں دیں۔ان کے فوٹو لئے اور چل دئے اب اندھیرا ہو رہا تھا۔پندرہ کلومیٹر چل کر ہائی وے کی چوکی پر آئےیہاں اب میرے انتظار میں مزید مریض اکٹھے ہو گئے تھے۔  مجھے عزت دی ، سب سے اچھی کرسی پر بٹھایا ،خود بیچارے ٹوٹی کرسیوں پر یا چٹائی پر بیٹھے۔بیٹھ کر کچہری کی ان کو بھی حسب حال دوائیں لکھ کر دیں۔ دو شیشیاں یہاں بھی بچھو کاٹے کے علاج  کی دیں ۔فوٹو لئے جو آئندہ ہمارے لئے داخلہ ٹکٹ کا  کام کریں گے۔وہ چائے کی دعوت دیتے رہے لیکن ہم نے اجازت لی اور چل دئے۔

یہاں تھوڑا سا تعارف نانی مندر کا ہوجائے تو قارئین کو اس مشہور مندر کے بارے میں کچھ معلومات حاصل ہو جائیں گی ۔ کراچی سے دو  سو تیس کلومیٹر دور بلوچستان کوسٹل ہائی وے پرایک دریائے ہنگول واقع ہے۔اس کے دائیں کنارے  چلیں تو 15 کلومیٹر پر نانی ہنگلاج کا مندر آجاتا ہے۔  ہزاروں سال  پرانا ہونے کی بناء پر مختلف تاریخی کہانیاں اس سے منسوب ہیں ۔ہندو ؤں کی کتاب پرانہ سے پتہ چلتا ہے کہملکہ پراسوتی کو ایک بیٹی کی خواہش ہوئی۔برہما نے ملکہ پراسوتی اور  اورا س کے شوہر دکشا کو ہدایت کی کہ وہ ادی پراشکتی   کی چنتا کریں۔کہ وہی سب کچھ بنانے والی ہے۔اسی نے یہ سارا سنسار بنایا ہے ۔اسی کی چنتا سے بیٹی مل سکتی ہے۔ان دونوں میاں بیوی نے راج پاٹ چھوڑا اور جوگیوں کا بھیس بھر کر ایک جنگل میں   ادی پرا شکتی کی چنتا کرنے لگے۔ایک لمبے عرصے کی پراتھنا  کے بعد ادی پراشکتی دیوی ظاہر ہوئی اور ان دونوں کو تپسیا سے جگایا۔اس نے ان دونوں سے ان  کے دل کی مراد پوری کرنے کا وعدہ کیا۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ وہ[ادی پرا شکتی] دوبارہ ان کی بیٹی کی حیثیت سے  جنم لے۔اس نے کہا کہ وہ اس شرط پر ان کی  بیٹی کی  حیثیت سے جنم لے گی کہ اس کا احترام کیا جائے گا۔اگر اس کی بے عزتی کی گئی تو وہ اپنے اصلی روپ میں آکر ان سے یہ رشتہ توڑ دے گی۔وہ مان گئے ۔ محل میں آنے کے بعد  ملکہ پراسوتی کے گھر  ادی پراشکتی دیوی  نے انسانی شکل میں ان کی تیئیسویں بیٹی کی حیثیت سے جنم لیا۔ اس کا نام ملکہ پراسوتی اور دکشا نے ستی رکھا۔ شیوا برہما  کا بیٹا تھا اور بہت بڑا بادشاہ تھا۔ برہما نے ستی کو اتنا خوبصورت پیدا کیا تھا کہ وہ اس کے بیٹے کو اچھی لگے اور وہ اس سے شادی کر لے۔ ستی اپنے استاد بابا  ناراداسے شیوا کی اتنی اچھی داستانیں سنی تھیں کہ اس نے  بالغ ہونے کے بعد شیوا سے شادی کرنے کی خواہش کی جو اس کے باپ دکشا کو پسند نہ تھا۔ شیوا کی محبت میں ستی نے اپنے باپ کا محل اور آسائشیں چھوڑیں اور جوگن بن کر جنگل میں شیوا کی پوجا کرنے لگی۔اس کی خوراک بس اشوکا کے پیڑ کا ایک  پتہ کھانے کی رہ گئی تھی وہ بھی اس نے  بعد ازاں بند کردیا تھا۔شیوا نے اس کی تپسیا قبول کرتے ہوئےاس کے من کی مراد پوچھی اس نے اپنی خواہش ظاہر کی، شیوا نے اسے اپنی دلہن بنانے کا عندیہ دے دیا۔ ستی واپس  محل آئی۔ دکشا نے اس کی شادی تو شیوا سے کر دی لیکن داماد کو کوئی عزت نہیں دی اور ایک طرح سے ستی اور اس کے شوہر کو اپنے خاندان سے بے دخل کر دیا۔ستّی نے اپنے شوہر شیوا کے ساتھ کیلاش میں اپنا گھر بسا لیا۔
اس کے باپ دکشا نے یوگنا کی ایک رسم کے موقع پر تمام دیوی دیوتاؤں اور بادشاہوں کو شمولیت کی دعوت دی۔اس مین ستی اور شیوا کو نہیں بلایا۔جب ستی کو پتہ چلا  تو اس نے اپنے شوہر شیوا کو کہا کہ ایک بیٹی اور داماد  کو اپنے باپ کے گھر جانے میں کیا مضائقہ ہے۔ چلو چلتے ہیں۔لیکن شیوا نہیں مانا۔ ستی شیوا کے فوجیوں کے ساتھ اپنے باپ دکشا  کے گھر اگئی۔ دکشا نے اسے آنے پر برا بھلا کہا۔اس نے اپنے باپ کو سمجھانے کی کوشش کی۔وہ نہیں مانا۔اب وہ  وعدے کی خلاف ورزی کی بنا پر اپنےاصلی روپ ادی پراشکتی میں آگئی۔بجلیوں کی کڑک اور  گرج چمک طوفان نے دھرتی ماتا کو دہلا کر رکھ دیا ۔تمام بلائیں ظاہر ہو گئیں اور سنسار کے تباہ ہونے کے آثار نظر آرہے تھے۔تمام اوتار ،دیوی دیوتا،شہزادے شہزادیاں اس کی ماں اور باپ ،لشمی دیوی سرساوتی دیوی سب کانپنے لگے اور  سب نے اس کو سلیوٹ کیا۔وہ اس کو سنسار کو جنم دینے والی ماں تھی۔اس نے اپنا تعارف کروایا کہ وہ ابدی  رہنے والی سنسار کی طاقت ہے۔دکشا کو صلواتیں سنائیں او ر اپنے شوہر شیوا کے ہاتھوں مرنے کی بدعا کی اور کہا کہ یہ یوگنا کی رسم کبھی پوری نہیں  ہو سکتی۔اس نے اپنے شوہر اور موجودہ ماں کو آخری سلام کیا اور کہا کہ وہ اب کسی ایسے باپ کے گھر پیدا ہوگی جو اس کی عزت کر سکے۔ یہ کہ کر اس نے اپنی لافانی قوت کو اس فانی جسم سے جدا کر دیا۔اس دیوی  کا فانی جسم بے جان  ہو کر  زمین پر گر گیا۔
  اس کے شوہر کو جب اس کی خبر ملی وہ انتہائی غصے میں  آگیا۔ اس نے ایک شیطانی ڈانس کرنا شروع کر دیا۔اس کے غصے سے سنسار  کی بقا کو خطرہ پیدا ہو گیا۔ڈانس میں تیزی کے ساتھ سنسار کی تباہی بھی تیز ہوتی جارہی تھی۔اپنے بالوں کی دو لٹیں نکال کر زمیں پر ڈال دیں۔ ایک  وربھدرا  بن گئی جو آٹھ ہاتھوں میں تباہی کے ہتھیار اٹھائے سنسار کی تباہی کے در پر تھی اور دوسری لٹ بھدرا کلی بن گئی جو  درانتی اور تیر کمان لئے ہوئے تھی۔ان کی مدد کو آٹھ دوسرے دیوی دیوتا تھے جن میں کالی،کتیانی،چمنڈا،ایشانی،منڈاماردنی،بھدرا،ویشناوی، اور تواریتا  شامل تھے۔شیوا نےدکشا کر سر کاٹ کر اس کی جگہ بکری کا سر لگا دیا گیا۔شیوا اپنی ملکہ کا جسم اچھے دنوں کی یاد میں لے کر سنسار میں چکر لگاتا رہا اور تباہی پھیلاتا رہا۔اس کا غصہ کم کرنے کے لئے وشنو دیوتا نے ستی دیوی کے باون ٹکڑےکئے اور    پورے سنسار میں پھیلا دئے۔
  جہاں جہاں یہ باون ٹکڑے گرے وہ  ستی کے استھان ،مقدس  مندر اور شکتی پیٹھ بن گئے۔ بھگوان شیوا نے اس سارے عمل کے بعد اپنےآ پ کو  بھیرو میں تبدیل کر لیا ۔اورراگ بھیروا انہی کی ایجاد ہے۔اپنے آپ کو ان ادی پارشکتی کے مندروں کی حفاظت کے لئے وقف کر دیا۔جو مختلف روپوں میں اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ان میں سے اکاون ٹکڑوں کے مندر بھارت میں ہیں  ستی دیوی کا  سر بلوچستان میں  دریائے   ہنگول دریا کے پاس ایک  پہاڑی مقام پر گرا تھا۔اس لئے یہ سب سے زیادہ اہم ہے۔ یہاں اس کو نانی ہنگلاج کہا جاتا ہے۔یہ علاقہ ہنگلاج کا ہے۔کوئی نانی ہنگلاج کوئی نانی ماتا اور کوئی نانی اماں  کہتا ہے۔کہانی  مکمل کرتے ہوئے یہ بتا دوں کہ ادی  پارشکتی دیوی پہلے  ستی دیوی بنی۔بعد ازاں اس نے ایک اور جنم ہیماوان بادشاہ اور میناوتی ملکہ کے ہاں پاروتی دیوی کے طور پر لیا اور جوان ہو کر ایک بار پھر  شیوا کی دلہن بنی اور جنگ کے دیوتا کارتی کیا،ایک بیٹی اشوکا سندری اور ہاتھی کے سر والے گنیش دیوتا کو جنم دیا۔
یہ مندر دیکھتے دیکھتے  اب مکمل اندھیرا ہو چکا تھا۔سوزوکی 150 بہت اچھی بائیک ہے۔سب کچھ ٹھیک ہے لیکن اس کی ہیڈ لائٹ کسی کام کی نہیں۔بڑی لائٹ ہے۔سامنے ایسی پڑتی ہے کہ سامنے والے ڈرائیور کی آنکھیں اندھی ہو جائیں، لیکن بائیک ڈرائیور کو سڑک پر کچھ بھی نظر نہیں آتا۔اسی لئے مکینک کے کہنے پر اس میں سوزوکی 200 کی تائیوان کی بنی ہوئی ہیلوجن بلب کی لائٹ ڈال دی تھی۔یہ بہت اچھی بیم والی لائٹ ہے۔اس کی مدد سےہم رات میں کوئی 45 کلومیٹر سفر کر کے ہنگول  ندی کے پل  سے بابا خیر دین کے جھونپڑا ہوٹل پر پہنچ گئے ۔ بس ایک اونٹ  اچانک کہیں سے سامنے آگیا تھا جسے بچانے میں بائیک چوں چاں کر گئی تھی۔ یہاں پیر بخش  نے ہماری تازہ کھچڑی اور اونٹنی کے دودھ کی لسی سے تواضع کی۔جنگل کی بے ڈھنگی لکڑیوں  کے بنے ہوئے دو تخت اس کے جھونپڑے کے باہر رکھے ہیں،ان پر رلیاں لگا کر ہمارے بستر کر دئے۔اوڑھنے کی چادریں دے دیں۔ہم ان پر لیٹ کر اپنے ٹیپ سے گانے سنتے اورسب کو سناتے رہے۔ٹھنڈی سمندری ہواؤ ں نے ہمیں لوریاں دے کر سلا دیا۔آج اس لئے بھی گہری نیند آ۔ئی کہ  یہ سفر کی آخری رات تھی۔کل بس ایک چکر چندر گپ کا لگا کر واپس گھر جانا تھا۔صبح پانچ بجے سے گوادر،تربت،پسنی اور ایران بارڈر والی بسیں سڑک سے گزرنا شروع ہو گئی تھیں۔ان کا نظارہ بڑا دل موہ لینے والا ہوتا ہے۔دور سے پہلے ایک جگمگ کرتی دلہن بنی گاڑی پہاڑیوں میں کہیں نظر آتی ہے پھر چراغاں کرتی ایک زناٹے سے ہمارے پاس سے گزر جاتی ہے۔ سائڈز اور پیچھے کی آرائشی  جلتی بجھتی  خوبصورت  لائیٹیں جنگل میں منگل کا سماں باندھ دیتی ہیں۔ ایک کے بعد ایک بس آتی ہے اوراپنا تاءثر چھوڑ جاتی ہے۔
صبح پیر بخش نے ناشتہ کرایا۔ چلنے کے لئے تیار ہوئے تو بائیک پنکچر تھی۔کوئی باریک پنکچر تھا جس میں ہم ہوا بھر بھر کے سو کلو میٹر سے  لا رہے تھے۔  جہاں سب سے پہلے ہوا کم ہوئی ہم نے ٹیوب بدلنے کے لئے پانے نکالے تو پتہ چلا کہ اس بائیک کے پچھلے ایکسل میں انیس نمبر کا پانا لگتا ہے۔اور ہم سیونٹی کے خیال میں سترہ نمبر کا پانا لے آئے تھے۔ پیر بخش کے پاس پانے تھے،اس لئے یہاں وہیل کھول کر  ٹیوب تبدیل کر لی۔سامان وہیں چھوڑا ،صرف پمپ اور پانی لے کر  واپس پیچھے14 کلو میٹر گئے۔ جاتے میں بائیں جانب چندر گپ یا مٹی فشاں یا مڈ والکینو کا موڑ آتا ہے۔ یہاں تین مڈ والکینو ہیں ۔ایک تو بہت اونچا ہے  کوئی تین سو میٹر،باقی چھوٹے ہیں۔ یہ جغرافیائی بناوٹ  کی وجہ سے زمین سے ابھرے ہوئے  مٹی کے پہاڑ ہیں جن کے درمیان ابھی بھی کیچڑ اوپر آکر بہتی ہے۔ اسے ہندو مذہب میں متبرک مقام حاصل ہے۔یہاں ان کے دہانوں میں ناریل پھینک کر کوئی رسم  پوری کی جاتی ہے۔ایسے ہزاروں کی تعداد میں مڈ والکینوز کی پہاڑیاں بلوچستان  میں واقع ہیں۔ان میں سے زیادہ تر کا لاوا بہنا بند ہو گیا ہے۔بیشتر ابھی زندہ ہیں۔بلوچستان کوسٹل ہائی وے  کے ارد گرد جتنے قدرتی سٹرکچر ہیں  وہ انہی مڈ والکینوز کی دجہ سے وجود میں آئے ہیں۔ہم  نے ایک چھوٹے مڈ والکینو پر بائیک چڑھا دی اور اس کے لاوا یا کیچڑ بہنے کا مشاہدہ کیا۔ مٹی والا گدلاپانی ان میں اوپر سے نیچے بہتا ہے۔ دہانے میں میتھین گیس کے بلبلے بھی پُڑک پُڑک کر کے اسی کیچڑ میں پھوٹتے رہتے ہیں۔پانی  دہانے کے اطراف سے چھو ٹی چھوٹی نالیاں بنا کر بہتا رہتا ہے۔ اس کے بہنے کی آواز  وہاں کی خاموشی میں جلترنگ  کی سی سنائی دیتی ہے۔ بڑے مڈ والکینو پر  صبح صبح ایک خوبصورت لومڑی  تیزی سے  اوپر چڑھتی جا رہی تھی جو کسی پرساد کی تلاش میں  تھی۔لوگ وہاں  خوراک کو بطور چڑھاوا ڈال دیتے ہیں جو ان جانوروں کے کام آتی ہے۔

 اس کی سیر کر کے ہم واپس پیر بخش کی جھونپڑی پر آئے۔دوبارہ چائے پی اور کراچی کے لئے روانہ ہو  گئے۔سیدھے زیرو پر آکر رکے۔جو جھونپڑے سے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہاں تھوڑے تازہ ہوئے۔غلام نبی نے چائے پی جو کئی دن بعد دودھ کی ملی۔یہاں سے ایرانی بسکٹ لئے۔وندر پر رکے۔ وندر جائیں اور جاموٹ لسی ہاؤس کی لسی نہ پئیں ایسا نہیں ہو سکتا۔صبح کا وقت تھا۔ لسی اور پراٹھے سےناشتہ کو ریچارج  کیا۔وہاں سے نکلے تو راستے میں ایک ٹرالر کو الٹا پایا۔ پوچھا تو بڑی سادگی سے ڈرائیور بولا کہ ہم سو گیا تھا۔اب کراچی سے 50 ٹن کی کرین آئے گی تو پانچ یا چھ لاکھ تو لے گی۔آگے ایک اور ٹرالر الٹا ہوا تھا۔ پوچھا تو پتہ چلا کہ انجن فیل ہو گیا تھا دوسرا انجن منگایا۔پہلا انجن جیک لگا کر نکال دیا۔ ٹرالا جیک پر کھڑا تھا۔ جیک سلپ ہو گیا اور ٹرالر پلٹ گیا۔بیچاروں کی بد قسمتی۔حب چوکی کے موندرہ چوک سے بائیں مڑ کر ساکران روڈ پکڑی جو بند مراد کی  جانب جاتی ہے۔اس پر 20 کلو میٹر کے بعد سیدھے ہاتھ مڑے اورحب ندی پار کرکے  بند مراد غلام نبی کے گھر پہنچ گئے۔  اسے چھوڑا اوروہاں سے  20 کلو میٹر پر ناردرن بائی پاس کے ذریعے ڈیڑھ بجے  اپنے گھر آگیا۔اس طرح یہ بلوچستان آن بائیک1850 کلو میٹر کا  ٹوور اختتام کو پہنچا۔
ہم نے بائیک پر کل 1850 کلو میٹر سفر کیا۔چھ دن اور پانچ راتیں صرف کیں۔ کل اخراجات 7000 کئے۔53 لٹر پٹرول خرچ کیا جس میں سے کم از کم چار لٹر ناپ تول کی جادوگری کا نکال دیں۔جتنی باتیں سنی تھیں کہ  بلوچستان میں نیا آدمی اغوا ہو جاتا ہے، بلوچ برے لوگ ہیں،قاتل ہیں ڈاکو ہیں، خطرناک ہیں، بی ایل اے والے تو کسی کو چھوڑتے ہی نہیں ہیں،تمام کی تمام باطل ثابت ہوئیں۔اور ہم یہ ساری  لغو اورغلط باتیں  گوادر کےکوہ باطل میں دفن کر آئے۔ ہمیں ہر جگہ تعاون ملا،ہر جگہ  محبت ملی،ہر جگہ خاطرتواضع کی گئی،کسی جگہ ہمیں کسی مقامی نے کسی بات سے نہیں ڈرایا بلکہ ہماری حوصلہ افزائی کی۔مقامی آدمی جس محبت سے ہم سے بات کرتے تھے وہ محبت بس محسوس کی جاسکتی ہے بیان نہیں کی جا سکتی۔پورے ٹوور میں ہم نے بس پہلی مرتبہ کولر میں وندر سے برف خرید کر ڈالی تھی،اس کے بعد چھ دن تک کسی نے ہم سے برف کے پیسے نہیں لئے۔گوادر  فشریزمیں مفت میں مچھلی کی  آفر تھی۔تربت کےصرف ایک پکے پروفیشنل ہوٹل کو چھوڑ کر ہم ٹرک ہوٹلوں پر راتیں بسر کرتے رہے۔ جیوانی میں بلوچوں ہی نے بغیر جان پہچان کے  ہماری توقع سے بڑھ کر  ہماری خاطر داری کی۔اپنی گاڑی میں گنز دکھایا۔یہ سب ثابت کرتا ہے  کہ بلوچستان کا عام بلوچ روائتی مہمان نواز ،محبت کرنے والا اور ملنسار ہے۔چند شرپسند اگر کسی کے بہکائے میں آکر گربڑ  کرتے ہیں تو وہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔اس ٹوور کا حاصل مشاہدے کے ساتھ ساتھ اپنے لوگوں  اوراپنی مٹی سے مزید محبت،ساحلی شہروں میں نئے تعلقات اور اس آئی بیک کا انداز کہ بھائی تم میرے علاقے میں کیا کر ہے ہو؟
شمیم الدین غوری